27 ستمبر کا لانگ مارچ حتمی، تاریخ میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی، شفیع اللہ جان

پشاور: خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے حالیہ واقعات کے بعد صوبائی حکومت کی ترجیحات اور 27 ستمبر کے اسلام آباد لانگ مارچ کی تیاریوں پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

وزیر اطلاعات خیبرپختونخوا شفیع اللہ جان پہلے ہی اعلان کرچکے ہیں کہ 27 ستمبر کے لانگ مارچ کی تاریخ میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی اور مارچ کی تمام تیاریاں مکمل ہیں۔ ان کے مطابق لانگ مارچ کی قیادت وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کریں گے۔

دوسری جانب کوہاٹ میں دہشتگردی کے واقعے کے بعد صوبے میں امن و امان کی صورتحال بھی زیر بحث ہے۔

شفیع اللہ جان نے واقعے کے حوالے سے شہادتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ علاقہ مکمل طور پر کلیئر ہونے کے بعد صورتحال واضح ہوگی۔ انہوں نے جاں بحق افراد کے لواحقین کو شہدا پیکیج دینے کا بھی اعلان کیا۔

اسی تناظر میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے حکومت کے اقدامات سے متعلق سوال بھی کیا گیا۔

صحافی کی جانب سے سوال کیا گیاسہیل آفریدی صاحب، آپ صوبے میں دہشتگردی کے خاتمے کے لیے کیا کر رہے ہیں؟

جواب میں سہیل آفریدی سے منسوب بیان کے مطابق انہوں نے کہا ہم یہاں عمران خان کی صحت پر لگے ہوئے ہیں اور آپ کو دہشتگردی کی پڑی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : اسلام آباد لانگ مارچ سے پہلے پی ٹی آئی کا اہم پلان سامنے آگیا

اس بیان کے بعد حکومت کی ترجیحات سے متعلق سیاسی اور عوامی حلقوں میں سوالات اٹھ رہے ہیں کہ ایک جانب خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے واقعات سامنے آرہے ہیں تو دوسری جانب صوبائی حکومت کی توجہ 27 ستمبر کے اسلام آباد لانگ مارچ پر مرکوز ہے۔

دوسری طرف سوشل میڈیا پر بعض حلقوں کی جانب سے یہ مطالبہ بھی سامنے آیا ہے کہ خیبرپختونخوا کے عوام دہشتگردی کے خلاف سخت مؤقف اختیار کریں اور دہشتگردوں کے مبینہ سہولت کاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کریں۔

اسی حوالے سے ایک سخت ردعمل میں کہا گیا کہ اب کے پی عوام کو ان کے گھروں کا گھیراؤ کرنا چاہیے اور ان دہشتگردوں کے سہولتکاروں کو اٹھا باہر پھینک دینا چاہیے۔

تاہم یہ بیان بھی متعلقہ فرد یا حلقے سے منسوب ہے اور اس کی ذمہ داری یا تصدیق کا تعین فراہم کردہ معلومات سے نہیں ہوتا۔

ادھر شفیع اللہ جان کے مطابق 27 ستمبر کا لانگ مارچ حتمی ہے، شرکا پرامن طور پر روانہ ہوں گے اور مارچ کی قیادت وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کریں گے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ مارچ میں 20 لاکھ سے زائد افراد شریک ہوں گے۔

خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے واقعات اور اسلام آباد لانگ مارچ کی تیاریوں کے بیک وقت جاری رہنے کے باعث صوبائی حکومت کی ترجیحات ایک بار پھر سیاسی بحث کا موضوع بن گئی ہیں۔

Scroll to Top