سلمان علی خان
پشاور: خیبرپختونخوا کی یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بنوں میں مبینہ انتظامی و مالی بے ضابطگیوں اور دیگر شکایات کی تحقیقات کے لیے پانچ رکنی انکوائری کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔
محکمہ اعلیٰ تعلیم، آرکائیوز و لائبریریز خیبرپختونخوا کی جانب سے 21 ستمبر 2026 کو جاری نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی فیکلٹی، اساتذہ اور ملازمین کی انجمن کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات کی تحقیقات کرے گی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق یونیورسٹی کے دائرہ اختیار سے باہر اداروں کو الحاق دینے، منظور شدہ داخلہ حدود کی خلاف ورزی، امتحانی انتظامات میں مبینہ بے ضابطگیوں اور ایکٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے رجسٹرار کی تقرری سمیت مختلف معاملات انکوائری کا حصہ ہوں گے۔
کمیٹی وائس چانسلر کی جانب سے مبینہ طور پر غیر قانونی ریکوزیشن الاؤنس حاصل کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لے گی، جبکہ غیر رجسٹرڈ اداروں کو الحاق دینے اور ایل ایل بی پروگرام کے غیر قانونی یا بے ضابطہ الحاق سے متعلق شکایات بھی تحقیقات میں شامل ہوں گی۔
اس کے علاوہ کمیٹی ایچ ای سی اور محکمہ اعلیٰ تعلیم کی ہدایات کے مطابق خالی آسامیوں پر تقرری اور انہیں پُر کرنے میں ہونے والی انتظامی تاخیر کا بھی جائزہ لے گی۔
یہ بھی پڑھیں : 13 سال گزر گئے، اربوں روپے خرچ ہوگئے، پشاور کا چلڈرن ہسپتال تاحال غیر فعال
ڈاکٹر قاسم جان انکوائری کمیٹی کے کنوینر مقرر
محکمہ اعلیٰ تعلیم کے نوٹیفکیشن کے مطابق سابق وائس چانسلر جامعہ پشاور پروفیسر ڈاکٹر قاسم جان کو انکوائری کمیٹی کا کنوینر مقرر کیا گیا ہے، جبکہ وائس چانسلر عبدالولی خان یونیورسٹی مردان پروفیسر ڈاکٹر جمیل احمد کمیٹی کے رکن ہوں گے۔
کمیٹی کے دیگر ارکان میں محکمہ قانون کے لاء آفیسر طاہر اقبال، صوبائی انسپیکشن ٹیم خیبرپختونخوا کے نمائندے اور محکمہ اعلیٰ تعلیم کے ڈپٹی سیکریٹری (U-I) شامل ہیں، جو ممبر/سیکریٹری کے فرائض بھی انجام دیں گے۔
انکوائری کمیٹی یونیورسٹی میں انتظامی و مالی بے ضابطگیوں اور ایکٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کی جانے والی مبینہ غیر قانونی تقرریوں کی بھی تحقیقات کرے گی۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی درج بالا معاملات کے علاوہ کسی ایسے معاملے کی بھی تحقیقات کرسکے گی جسے وہ مناسب سمجھے اور جو مذکورہ امور میں شامل نہ ہو۔





