فضل نبی
نوشہرہ: متنازعہ اراضی پر دیوار کی تعمیر سے منع کرنے پر ٹھیکیدار کے کارندوں کی مبینہ فائرنگ سے 2 افراد جاں بحق جبکہ 6 زخمی ہوگئے۔
واقعے کے بعد اہل علاقہ نے زخمیوں کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا، جبکہ دونوں مقتولین کی نعشیں سڑک پر رکھ کر احتجاج کیا اور کئی گھنٹوں تک روڈ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند رکھا۔ مظاہرین نے ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
نوشہرہ پولیس کو رپورٹ درج کراتے ہوئے عدنان ولد کوثر خان ساکن نندرک نوشہرہ نے بتایا کہ ٹھیکیدار حمزہ ولد نامعلوم ساکن پشاور کے کارندے ایک ایسی اراضی پر دیوار تعمیر کر رہے تھے جو متنازع ہے اور اس حوالے سے عدالت میں کیس بھی زیر سماعت ہے۔ ان کے مطابق انہوں نے کارندوں کو تعمیر سے منع کیا، جس پر وہ مشتعل ہوگئے۔
رپورٹ کے مطابق ٹھیکیدار کے کارندوں ابراہیم ولد روشم خان ساکن کالام حال چارسدہ، امان اللہ ولد کرامت اللہ ساکن خٹ کلے عاشور آباد، شہزاد ولد محمد اللہ سکنہ ڈھیری زرداد چارسدہ، انعام اللہ ولد حاجی شادی خان ساکن لکی مروت حال رسالپور زندو، حضرت بلال ولد مراد خان ساکن دلہ زاک روڈ پشاور، عاشق اللہ ولد عاشور خان سکنہ پبی اسٹیشن، حضرت عثمان ولد قوت خان ساکن باڑہ قمبر خیل، عیسیٰ جان ولد لوپیا جان سکنہ لنڈی کوتل اور عبداللہ ولد حاجی سلیم سکنہ کرم نے مبینہ طور پر فائرنگ کردی۔
یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی رہنما آصف خان کا نام ای سی ایل میں شامل، پشاور ہائیکورٹ سے رجوع
درخواست گزار کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں اس کا بھائی تحسین اللہ ولد کوثر خان اور کفایت ولد اول کریم ساکن تیرہ حال نندرک جاں بحق ہوگئے، جبکہ احمد علی ولد پرویز، سید کلام ولد میر حسن، غالب ولد حزب علی، عثمان ولد رفعت حسین، سرتاج ولد اقرار الدین اور مدثر ولد سبز علی شدید زخمی ہوئے۔ واقعے کے بعد ملزمان فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد اہل علاقہ نے زخمیوں کو ہسپتال منتقل کرنے کے بعد دونوں مقتولین کی نعشیں موٹروے کے کرنل شیر خان انٹرچینج پر رکھ دیں اور احتجاجاً کئی گھنٹوں تک سڑک بند رکھی۔
روڈ بند ہونے کی اطلاع ملنے پر نوشہرہ پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے سڑک کھلوانے کے لیے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل میڈم سارا تواب کی نگرانی میں مذاکراتی ٹیم تشکیل دی۔
مذاکراتی ٹیم کی کوششوں اور ملزمان کی گرفتاری کی یقین دہانی کے بعد مشتعل مظاہرین نے روڈ کھول دیا۔ پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کرکے ملزمان کی گرفتاری کے لیے ٹیم تشکیل دے دی ہے۔





