اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے آغاز پر 75 سے زائد ممالک کے وفود احتجاجاً اجلاس ہال سے واک آوٹ کر گئے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کی تقریر کے دوران 77 ممالک کے وفود یا تو ہال سے واک آؤٹ کر گئے یا پہلے ہی اجلاس میں موجود نہیں تھے، تاہم بعض ممالک کی عدم موجودگی کو احتجاجی واک آؤٹ قرار نہیں دیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق واک آؤٹ میں عرب ممالک سمیت ایشیا، افریقہ، یورپ اور لاطینی امریکہ کے متعدد ممالک کے نمائندے شامل تھے۔
دوسری جانب ترکیہ، ایران، پاکستان، ملائیشیا، بنگلہ دیش، شام، اردن، عراق، ازبکستان اور کرغزستان سمیت کئی ممالک کے وفود نے نیتن یاہو کے خطاب کے آغاز پر ہال چھوڑ دیا۔
رپورٹ کے مطابق فلسطینی مشن نے اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے نمائندوں سے نیتن یاہو کے خطاب کے آغاز پر اجتماعی طور پر ہال سے باہر نکلنے کی اپیل کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: ترکیے نے اسرائیلی وزیر اعظم کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے
واک آؤٹ کا یہ واقعہ غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر جنرل اسمبلی میں موجود شدید سفارتی اختلافات کی عکاسی کرتا ہے۔





