چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ یونٹ-1 (C-1) نے مسلسل 427 روز تک محفوظ اور بلا تعطل آپریشن جاری رکھ کر پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (پی اے ای سی) کی تاریخ میں مسلسل آپریشن کی طویل ترین مدت کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا۔
پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے مطابق چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ یونٹ-1 نے اپنے آپریشن کے 18ویں مرحلے کے دوران 427 روز تک مسلسل آپریشن کیا۔ اس دوران پلانٹ نے محفوظ، قابلِ اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی پیداوار جاری رکھی۔
C-1 کی کارکردگی کو بین الاقوامی سطح پر بھی نمایاں قرار دیا گیا ہے۔ ورلڈ ایسوسی ایشن آف نیوکلیئر آپریٹرز (WANO) کے پرفارمنس انڈیکیٹر انڈیکس میں 2026 کی پہلی دو سہ ماہیوں کے دوران یونٹ-1 نے ہر سہ ماہی میں 100 کا اسکور حاصل کیا۔
PAEC کے مطابق یہ کارکردگی پلانٹ کے آپریشنل معیار، قابلِ اعتماد آپریشن اور نیوکلیئر سیفٹی کے اعلیٰ معیارات پر عملدرآمد کی عکاسی کرتی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ چشمہ نیوکلیئر پاور جنریٹنگ اسٹیشن (CNPGS) کے انجینئرز، سائنسدانوں اور دیگر عملے کی تکنیکی مہارت، نظم و ضبط اور ٹیم ورک نے اس کامیابی میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کی انتظامیہ کی رہنمائی اور حفاظتی معیارات پر سختی سے عملدرآمد نے اس کارکردگی کو مزید مستحکم کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے درمیان چشمہ-5 نیوکلیئر پاور پلانٹ کے لیے سیف گارڈز معاہدے پر دستخط
ستمبر 2026 میں سینیٹ آف پاکستان میں پیش کی گئی معلومات کے مطابق چشمہ نیوکلیئر پاور جنریٹنگ اسٹیشن سے پیدا ہونے والی بجلی کی لاگت 6.876 روپے فی یونٹ رہی، جو پن بجلی کے بعد بجلی پیدا کرنے کی دوسری کم ترین لاگت بتائی گئی ہے۔
پاکستان اٹامک انرجی کمیشن اس وقت مجموعی طور پر 3,530 میگاواٹ پیداواری صلاحیت رکھنے والے چھ نیوکلیئر پاور پلانٹس چلا رہا ہے، جو قومی گرڈ کو بجلی فراہم کر رہے ہیں۔





