انتشاری مارچ پر پی ٹی آئی قیادت آمنے سامنے، مؤخر کرنے کی تجویز سامنے آگئی

پشاور: خیبر پختونخوا میں ڈی آئی خان اور کوہاٹ سمیت مختلف علاقوں میں دہشتگردی کے واقعات جاری ہیں، پولیس اور سیکیورٹی فورسز قربانیاں دے رہی ہیں، مگر پی ٹی آئی کی توجہ ایک بار پھر اسلام آباد کے انتشاری مارچ پر مرکوز ہے۔

پی ٹی آئی رہنما شوکت یوسفزئی نے پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر کو خط لکھ کر لانگ مارچ فوری مؤخر کرنے کی تجویز دے دی، جس سے واضح ہے کہ پارٹی کے اندر بھی مارچ کی حکمت عملی پر مکمل اتفاق نہیں۔

لانگ مارچ کی تاریخ پہلے 27 ستمبر سے بڑھا کر 4 اکتوبر کی گئی، تاہم اب اسے دوبارہ ملتوی کیے جانے کے امکانات سامنے آ رہے ہیں۔

ایک طرف احتجاج اور گرفتاریوں کی باتیں کی جا رہی ہیں تو دوسری جانب اپنی ہی قیادت مارچ مؤخر کرنے کی تجاویز دے رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : خیبر پختونخوا میں اعلیٰ سطح پر افسران کے تبادلے اور ترقیاں

خیبر پختونخوا میں دہشتگردی، بدامنی اور مہنگائی کے مسائل موجود ہیں، ایسے میں اسلام آباد پر چڑھائی، سیاسی انتشار اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کی سیاست پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

9 مئی کے واقعات بھی سیاسی احتجاج کے دوران سرکاری و عسکری املاک کو پہنچنے والے نقصان کی واضح مثال ہیں۔

صوبے کے عوام امن اور تحفظ چاہتے ہیں، جبکہ پی ٹی آئی کی جانب سے احتجاجی سیاست پر توجہ نے اس کی سیاسی ترجیحات پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

Scroll to Top