ہلمند میں بی ایل اے کے میڈیا آپریشنز مرکز پر کارروائی، اہم کمانڈروں سمیت 9 دہشتگرد ہلاک

افغانستان کے صوبہ ہلمند کے ضلع گرمسیر میں بی ایل اے کے مبینہ میڈیا آپریشنز مرکز کو نشانہ بنایا گیا، سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی میں اہم کمانڈروں سمیت 9 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی یکم اکتوبر کی صبح تقریباً 4 بج کر 45 منٹ پر کی گئی، جس کے دوران دہشت گرد تنظیم کے مبینہ پروپیگنڈا اور میڈیا نیٹ ورک کے مرکز کو نشانہ بنا کر تباہ کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق کارروائی میں میڈیا سرگرمیوں کے ذمہ دار سمجھے جانے والے کمانڈروں شیروان، حذیفہ، فاروق اور حضرت بلوچ سمیت 9 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ کمپاؤنڈ ملا نادر کی ملکیت تھا، جسے نیمروز میں طالبان بارڈر فورس کا کمانڈر اور ہلمند و نیمروز میں بی ایل اے کا مبینہ اہم سہولت کار بتایا جاتا ہے۔

پاکستانی مؤقف کے مطابق کارروائی کا مقصد ایسے مبینہ نیٹ ورک کو نشانہ بنانا تھا جو پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا، بھرتی اور دہشت گردی کے لیے ذہن سازی میں ملوث تھا۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بلوچستان میں دہشت گرد تنظیم کے پروپیگنڈا نیٹ ورک کی سرگرمیوں کے ساتھ افغانستان میں قائم مبینہ مراکز بھی اس سلسلے کا اہم حصہ ہیں۔

پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغانستان میں موجود بعض مسلح گروہ پاکستانی علاقوں میں حملوں کے لیے اپنی کارروائیاں منظم کرتے ہیں، جبکہ افغان طالبان حکومت ان الزامات کی تردید کرتی رہی ہے اور دہشت گردی کو پاکستان کا داخلی مسئلہ قرار دیتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر فضائی کارروائی، 22 دہشت گرد جہنم واصل

وزارت اطلاعات کے مطابق یکم اکتوبر کو افغانستان میں دو مقامات پر دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائی کی گئی، جس میں دہشت گردوں کے مراکز اور محفوظ ٹھکانے نشانہ بنائے گئے۔

وزارت اطلاعات نے ابتدائی اطلاعات کی بنیاد پر 22 دہشت گردوں کی ہلاکت اور اسلحہ و گولہ بارود کے ذخائر تباہ ہونے کی اطلاع دی تھی۔

دوسری جانب افغان حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ہلمند اور کنڑ میں ہونے والی کارروائیوں میں 9 افراد ہلاک اور 11 زخمی ہوئے، جبکہ 3 مکانات بھی تباہ ہوئے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں دہشت گردوں کے تنظیمی، مالی، ابلاغی اور سہولت کاری کے نیٹ ورکس کو بھی ہدف بنایا جائے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سرحد پار موجود دہشت گرد انفراسٹرکچر کو پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتے ہوئے اس کے خلاف اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

Scroll to Top