پاکستان مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخوا کے ایڈیشنل سیکرٹری اطلاعات ارباب خضر حیات نے کہا ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں میں وفاق خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ کر کے ایک بڑا فیصلہ کرے گا اور عوام کے ووٹوں کا مذاق اڑانے والی پاکستان تحریکِ انصاف کی صوبائی حکومت کو گھر بھیج دیا جائے گا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کا یہ تیسرا دورِ حکومت ہے، لیکن اس نے عوام کو ووٹ کے بدلے صرف دہشت گردی دی ہے۔ عوامی وسائل کو قیدی نمبر 804 کو چھڑانے کے لیے جلسے جلوسوں پر ضائع کیا گیا، جبکہ عوام کو تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی سہولیات سے محروم رکھا گیا۔
انہوں نے کہا کہ صوبے میں آئے روز دہشت گردی کے واقعات بڑھ رہے ہیں اور صوبائی حکومت کے پاس کوئی ایکشن پلان نہیں ہے۔ ان کے پاس اگر کوئی پلان ہے تو وہ صرف دہشت گردوں کو سپورٹ کرنا ہے، اسی لیے میں اسے ایک غیر ذمہ دار حکومت کہوں گا۔
ارباب خضر حیات کا کہنا تھا کہ وفاق نے ہر موڑ پر صوبائی حکومت کی مدد کی، لیکن پی ٹی آئی نے ہمیشہ وفاق پر چڑھائی کرنے کی کوشش کی جس سے عوام اب تنگ آ چکے ہیں۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ پشاور کی خوبصورتی (Beautification) کے لیے 100 ارب روپے فراہم کیے گئے تھے، لیکن وہ رقم کہاں گئی؟ من پسند ٹھیکیداروں کو ناقص کام کے ٹھیکے دیے گئے جو معمولی بارش میں بہہ جاتے ہیں۔
اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 2024 میں دہشت گردی کے 702 واقعات رپورٹ ہوئے، 2025 میں یہ تعداد بڑھ کر 776 ہو گئی، جبکہ ستمبر 2026 تک مزید 769 واقعات پیش آ چکے ہیں۔ یوں 2024 سے ستمبر 2026 تک مجموعی طور پر 2,247 دہشت گردی کے واقعات رونما ہوئے ہیں۔
جانی نقصان کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 2024 میں 1,363 افراد متاثر ہوئے، 2025 میں یہ تعداد 2,359 ہو گئی، اور ستمبر 2026 تک مزید 1,036 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ان سالوں میں مجموعی طور پر 5,358 افراد شہید یا متاثر ہوئے، جن میں 783 عام شہری اور 1,191 سیکیورٹی فورسز کے اہلکار شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ صرف عدد نہیں بلکہ ان کے پیچھے اجڑے ہوئے گھر، بیوہ خواتین اور یتیم بچے ہیں، لیکن پی ٹی آئی نے کبھی بدامنی روکنے پر توجہ نہیں دی۔ یہ وہی لوگ ہیں جو طالبان کو واپس لائے اور ان کے دفاتر کھولنے کا اعلان کرتے رہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اب خیبر پختونخوا کا حق بنتا ہے کہ یہاں ایمرجنسی یا گورنر راج قائم کر کے عوام کو ریلیف دیا جائے۔ آئندہ 48 گھنٹوں میں سہیل آفریدی اپنی سیٹ پر نہیں ہوں گے کیونکہ وفاق نے صوبے کے عوام کو اس لاپروا حکومت سے نجات دلانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور ان کی کابینہ نے حیات آباد میں مہنگے بنگلے خرید کر ٹرانسفر اور پوسٹنگ کی دکانیں کھول رکھی ہیں، جہاں بھاری رشوت کے بدلے آرڈرز جاری کیے جاتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پولیس ایکٹ کے ذریعے اختیارات اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ روزانہ ڈی ایس پیز اور ڈی پی اوز کے تبادلے کیے جا سکیں۔ وزیراعلیٰ اکثر ملزمان اور سمگلروں کو پولیس کی گرفت سے فون کر کے چھڑاتے ہیں اور اب آئی جی پی کو بھی اپنے انڈر کرنا چاہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں اور صوبے میں تباہی کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ کرپشن کے سیکنڈلز روزانہ سامنے آ رہے ہیں، جبکہ ضم شدہ اضلاع کے اربوں روپے کا کوئی حساب نہیں ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کا پلان اور وفاق سے ملنے والے اربوں روپے کے ٹیکسز کا ریکارڈ عوامی عدالت میں پیش کرے۔
یہ بھی پڑھیں : آئی سی سی کے نئےکرکٹ قوانین نافذ،شائقین اور کھلاڑیوں کے لیے بڑی خبر
آخر میں انہوں نے کہا کہ عمران خان کی قسمت کا فیصلہ عدالتوں نے کرنا ہے، جلسے جلوسوں سے کچھ نہیں ہوگا۔ وزیراعلیٰ کو عوام نے خدمت کے لیے ووٹ دیا تھا نہ کہ جلسے جلوسوں کے لیے۔ وفاق جلد از جلد صوبے میں گورنر راج لگا کر عوام کو ریلیف فراہم کرے۔





