پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ایک اہم اور ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے نام نہاد آپریشن شیرانوالی اور پاکستانی شہری کے حوالے سے کی جانے والی من گھڑت میڈیا مہم کو مکمل طور پر بے نقاب کر دیا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے تفصیلی حقائق بتاتے ہوئے کہا کہ 29 ستمبر کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے علاقے میں ایک اور فالس فلیگ آپریشن کا ڈراما رچایا گیا۔ 29 ستمبر کی رات بھارتی فوج کی ایکس پرو کور نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ایک دہشت گرد کو ہلاک کر دیا ہے۔ اگلے روز 30 ستمبر کو بھارتی فوج نے اپ ڈیٹ دی کہ لشکرِ طیبہ کے کمانڈر کی لاش مل گئی ہے، جسے بھارتی فوج نے محمد آصف عرف ہاشم موسیٰ، بھارتی وزارتِ خارجہ نے موسیٰ عرف آصف اور گودی میڈیا نے “موسیٰ عرف آصف فوجی” قرار دیا۔ بھارت نے یہ من گھڑت کہانی بھی گھڑی کہ محمد آصف ایس ایس جی کا ریٹائرڈ حوالدار ہے جو گزشتہ 4 سال سے مقبوضہ کشمیر میں سرگرم تھا اور بھارتی میڈیا پر اسے “سپرمین” بنا کر پیش کیا گیا جس نے متعدد علاقوں میں حملے کیے۔
ترجمان پاک فوج نے بھارتی جھوٹ کے غبارے سے ہوا نکالتے ہوئے ضلع اٹک کے شہر پنڈی گھیب سے تعلق رکھنے والے پاک فوج کے سابق ایس ایس جی حوالدار محمد آصف کو پریس کانفرنس کے دوران میڈیا کے سامنے زندہ سلامت پیش کر دیا۔
اس موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سابق حوالدار محمد آصف نے بتایا: “میں 2023 میں ایس ایس جی سے ریٹائرڈ ہوا ہوں۔ جب بھارت نے میرے ‘شہید’ ہونے کا من گھڑت دعویٰ کیا تو مجھے دوستوں اور رشتہ داروں کی فون کالز آنا شروع ہو گئیں۔ میں اپنے گھر میں صحیح سلامت موجود تھا اور حیران ہو رہا تھا کہ بھارتی فوج نے مجھے کیسے مار دیا! میں نے فون کرنے والوں سے بھی کہا کہ مجھ سے فون پر بات بھی کر رہے ہو اور بھارتی فوج کے جھوٹ پر یقین بھی رکھ رہے ہو۔ میں نے ہمیشہ وطن کی خاطر بہادری سے جنگ لڑی ہے اور آئندہ بھی ہر قربانی کے لیے تیار ہوں۔ میں بھارت کے اس بے بنیاد الزام کی شدید مذمت کرتا ہوں اور چیلنج دیتا ہوں کہ سامنے آ کر لڑو تاکہ تمہیں سبق سکھائیں۔”
پریس کانفرنس کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھارتی ریاستی دہشت گردی اور اسپانسرشپ کے باقاعدہ ویڈیو شواہد دنیا کے سامنے رکھے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت دہائیوں سے پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے فالس فلیگ آپریشنز کر رہا ہے اور اپنی سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کو چھپانے کے لیے دوسروں پر الزامات عائد کرتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ “ہمارا سوال ہے کہ ریٹائرڈ محمد آصف پر بھارت نے فالس فلیگ آپریشن کیوں کیا؟ اور دعویٰ کیا گیا کہ ‘آپریشن شیرانوالی’ میں بڑی کامیابی ملی ہے۔”
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھارتی نیٹ ورک اور افغان طالبان رجیم کے تعلق کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت پاکستان میں موجود دہشت گردوں کو اسپانسر کرتا ہے اور افغان طالبان رجیم کی دہشت گردی بھی بھارت کا پاکستان مخالف ایک اور چہرہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی مکتی باہنی سے لے کر کالعدم ٹی ٹی پی تک کو فنڈنگ اور سہولت کاری اب سب کے سامنے آ چکی ہے۔ بھارت پہلگام واقعے سے لے کر کسی بھی واقعے کے ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا ہے، جبکہ بھارتی وزیراعظم خود ریاستی سطح پر کی جانے والی دہشت گردی کو فخریہ بیان کرتے ہیں۔
ترجمان پاک فوج نے مزید کہا کہ “بھارت آئینہ دیکھتا ہے تو خود کو دہشت گرد دیکھ کر الزام دوسروں پر لگا دیتا ہے، جبکہ گودی میڈیا کا ایجنڈا صرف اور صرف اپنے انتہا پسند ہندو آقا کو خوش کرنا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارا ایک ایسا ہمسایہ ہے جو اپنے سیاسی عزائم کے لیے صرف جھوٹ بیچتا ہے۔ بھارت دنیا بھر میں دہشت گردی پھیلانے کی وجہ سے بدنام ہو چکا ہے۔”
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھارت کو للکارتے ہوئے کہا: “ہم سامنے سے لڑنے والے ہیں، پیچھے سے وار کرنے والے نہیں۔ اگر آپ کے پاس ثبوت ہیں تو آجائیں اور دنیا کو دکھائیں۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ صبح نیند سے اٹھو اور پاکستان پر الزامات لگانا شروع کر دو۔ بھارت اگر کچھ کرنا چاہتا ہے يا دوبارہ کوئی ڈراما کرنا چاہتا ہے تو کرکے دیکھ لے، پھر ہمارا ردعمل بھی انتہائی سخت ہوگا۔” انہوں نے مزید کہا کہ مقبوضہ کشمیر دنیا کی سب سے بڑی جیل بن چکا ہے جہاں انسانیت سوز مظالم کشمیری عوام خود دنیا کے سامنے لا رہے ہیں، اور عالمی برادری کو اب سمجھنا ہوگا کہ وہاں اصل میں کیا ہو رہا ہے۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر ملکی سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح اور حتمی موقف اپنایا کہ پاک فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے، سیاست صرف سیاسی جماعتوں کے لیے ہے اور فوج کو اس معاملے میں نہ لایا جائے۔





