سہیل آفریدی نے پھر کارکنوں کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا، خیبر پختونخوا میں 5 روزہ لانگ مارچ کا اعلان

لکی مروت کے گنڈی چوک پر احتجاج کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کے لیے ایک اور احتجاجی پروگرام سامنے آگیا۔

وفاقی حکومت کی شرائط کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کے بعد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی دلبرداشتہ ہو گئے، کارکنوں کو پھر ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا، خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع سے کارکن جمع کرکے 5 روزہ لانگ مارچ کا اعلان کردیا۔

سہیل آفریدی کے اعلان کے مطابق لانگ مارچ کا پہلا مرحلہ آج، 4 اکتوبر کو دوپہر ایک بجے گنڈی چوک لکی مروت سے شروع ہوگا، جس میں ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، جنوبی و شمالی وزیرستان، بنوں اور لکی مروت سے کارکنوں کی شرکت کا ذکر کیا گیا ہے۔

اعلان کے مطابق قافلہ پہلے مرحلے میں کرک کے قریب پڑاؤ کرے گا، 5 اکتوبر کو کرک کے مقام پر مزید کارکنوں کے شامل ہونے کے بعد قافلہ کوہاٹ کی جانب روانہ ہوگا اور رات کو کوہاٹ کے قریب قیام کرے گا۔

6 اکتوبر کو کوہاٹ، ہنگو، کرم اور اورکزئی سے کارکنوں کو قافلے میں شامل کرنے کا اعلان کیا گیا ہے، جس کے بعد مارچ پشاور کی جانب بڑھے گا۔ 7 اکتوبر کو پشاور کے مختلف مقامات سے کارکنوں کی شمولیت کے بعد قافلہ چارسدہ کی طرف روانہ ہوگا۔

اعلان کے مطابق 8 اکتوبر کو چارسدہ انٹرچینج سے روانگی کے بعد چارسدہ اور مہمند کے کارکن بھی قافلے کا حصہ بنیں گے، جبکہ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں سے آنے والے کارکن خیرآباد کے مقام پر جمع ہوں گے۔

یوں گنڈی چوک کے احتجاج کے بعد کارکنوں کے لیے ایک اور طویل احتجاجی سفر کا اعلان سامنے آگیا ہے، جسے ناقدین طنزیہ طور پر “کارکنوں کو ایک بار پھر ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے” سے تعبیر کر رہے ہیں۔

گنڈی چوک کے احتجاج کے بعد سہیل آفریدی کی جانب سے ایک بار پھر پانچ روزہ لانگ مارچ کے اعلان نے پی ٹی آئی کارکنوں کے سامنے ایک نیا سوال کھڑا کر دیا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا پی ٹی آئی کے کارکن سہیل آفریدی کی اس نئی کال پر بھی پہلے کی طرح اعتماد کریں گے؟

Scroll to Top