حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان مذاکرات میں دہشتگردی کے خلاف اقدامات اور خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال سے متعلق معاملات پر ڈیڈلاک برقرار ہے۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات میں دہشتگردی کے خاتمے اور کالعدم مسلح عناصر کے خلاف مؤثر اقدامات کے طریقۂ کار پر دونوں فریقین کے درمیان اختلافات سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے دہشتگردی سے متاثرہ علاقوں میں سیکیورٹی اور انتظامی اقدامات مزید مؤثر بنانے کے لیے بعض خصوصی انتظامی اختیارات اور عملی اقدامات کی تجاویز دی گئی ہیں، تاہم پی ٹی آئی کی جانب سے ان تجاویز پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق دہشتگردی کے خلاف عملی اقدامات، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون اور صوبائی حکومت کے کردار سے متعلق معاملات مذاکرات میں اہم نقطۂ اختلاف بن گئے ہیں۔ حکومتی حلقوں کا مؤقف ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان مکمل تعاون اور واضح عملی اقدامات ضروری ہیں۔
یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وفاقی حکومت خیبر پختونخوا میں انسدادِ دہشتگردی کے اقدامات میں صوبائی حکومت کے کردار پر پہلے ہی سوالات اٹھا چکی ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے حالیہ دنوں میں صوبائی حکومت پر دہشتگردی کے خلاف مؤثر اقدامات نہ کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں، جبکہ وفاقی حکومت نے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے صوبائی تعاون کو ضروری قرار دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات میں یہ معاملہ بھی زیر بحث ہے کہ دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں میں ریاستی اداروں کو کس نوعیت کا صوبائی تعاون فراہم کیا جائے اور متاثرہ علاقوں میں انتظامی و سیکیورٹی اقدامات کس طریقۂ کار کے تحت آگے بڑھائے جائیں۔
دوسری جانب مذاکرات میں ڈیڈلاک کے باعث آئندہ کا لائحہ عمل تاحال واضح نہیں ہوسکا۔ فریقین کے درمیان دہشتگردی کے خلاف اقدامات پر اتفاق رائے نہ ہونے کی صورت میں مذاکراتی عمل میں مزید تاخیر کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔





