پی ٹی آئی لانگ مارچ کے بڑے بڑے دعوے زمین بوس، 50 ہزار کے ہدف پر 100، 200 کا ہجوم، مقامی قیادت کارکن نکالنے میں ناکام

پشاور: پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا سلسلہ خیبر پختونخوا سے شروع ہوگیا، تاہم مارچ کے ابتدائی مرحلے میں قافلے کی تعداد، انتظامات اور پارٹی قیادت کی شرکت کے حوالے سے مختلف دعوے اور سوالات سامنے آئے ہیں۔

مارچ کا آغاز خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع لکی مروت سے ہوا، جہاں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اتوار کی سہ پہر سرکاری ہیلی کاپٹر کے ذریعے پہنچے۔ انہوں نے گنڈی چوک سے اسلام آباد کی جانب مارچ کا آغاز کیا، تاہم ان کے ہمراہ مرکزی قیادت کے کئی اہم رہنما موجود نہیں تھے۔

وزیراعلیٰ کے ساتھ ان کے قریبی ساتھی شفقت ایاز، شاہد خٹک اور بعض مقامی رہنما موجود تھے، جبکہ صوبائی قیادت کی بھی نمایاں تعداد نظر نہیں آئی۔ مرکزی قیادت کی عدم موجودگی نے مارچ میں پارٹی قیادت کی شرکت کے حوالے سے سوالات کو جنم دیا۔

سہیل آفریدی مارچ کے قافلے کے ہمراہ لکی مروت سے کرک اور پھر کوہاٹ تک پہنچے، جبکہ سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور ڈیرہ اسماعیل خان سے آگے نہ بڑھ سکے۔

یہ بھی پڑھیں : آئی فون 18 پرو میکس صارفین کے لیے بڑی خبر، متاثرہ فون مفت تبدیل کرنے کا فیصلہ

دوسری جانب دعویٰ کیا گیا ہے کہ مارچ کے لیے بڑے قافلوں اور ہزاروں کارکنوں کی شرکت کے اعلانات کے باوجود مختلف مقامات پر شرکاء کی تعداد توقعات کے مطابق نظر نہیں آئی۔ رپورٹس میں 40 سے 50 ہزار افراد کے قافلوں کے اہداف کا ذکر کیا گیا، تاہم متعدد مقامات پر قافلے محدود تعداد میں دکھائی دیے۔

مارچ کے دوران کرک کے جیل چوک گراؤنڈ میں صفائی کے مسائل بھی سامنے آئے۔ مارچ کے شرکاء کے روانہ ہونے کے بعد گراؤنڈ میں کچرے اور گندگی کے ڈھیر نظر آئے، جس کے باعث گراؤنڈ کی صفائی کے حوالے سے سوالات اٹھائے گئے۔

کوہاٹ سے متعلق رپورٹس میں کارکنوں کے لیے کھانے پینے کے انتظامات کے مسائل کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق صبح کے وقت کارکنوں کو ناشتے کی دستیابی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ مارچ کے انتظامات اور فنڈز سے متعلق بھی مختلف دعوے سامنے آئے ہیں۔

مارچ کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ عوامی شرکت کے بڑے دعوے عملی طور پر نظر نہیں آئے، جبکہ پی ٹی آئی کی جانب سے مارچ کو اپنے سیاسی مطالبات کے حصول کی جدوجہد قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : خیبر پختونخوا میں بادل جم کر برسے، متعدد اضلاع میں ژالہ باری

مارچ کے باعث بعض تجارتی مراکز اور منڈیاں بند رہنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ تاجر نمائندوں کی جانب سے راستوں کی بندش اور کاروباری سرگرمیوں متاثر ہونے پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، جبکہ ان کا کہنا ہے کہ احتجاجی سرگرمیوں کے باعث کاروباری طبقے کو مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

مرکزی قیادت وفاق کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے سیاسی راستہ نکالنے اور تصادم سے گریز کے حق میں دکھائی دیتی ہے، جبکہ سہیل آفریدی اور ان کے قریبی ساتھیوں کا مؤقف ہے کہ مذاکرات سے قبل بانی پی ٹی آئی عمران خان سے مشاورت ضروری ہے اور ان کی منظوری کے بعد ہی بات چیت آگے بڑھنی چاہیے۔

Scroll to Top