صدر مملکت آصف علی زرداری کی زیرِ صدارت ایوانِ صدر میں خیبر پختونخوا کی مجموعی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال پر اعلیٰ سطح کا اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا جس کے دوران صوبے میں گورنر راج نافذ کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی اور وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ سمیت اہم وفاقی وزرا نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما شیری رحمان اور نوید قمر بھی اجلاس میں شریک تھے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے فیصلے کی باضابطہ منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس کل طلب کر لیا گیا ہے۔
اعلیٰ سطحی اجلاس میں دوٹوک عزم ظاہر کیا گیا کہ کسی صورت حالات کو بگڑنے نہیں دیا جائے گا اور کسی کو بھی ملک یا صوبے کا امن خراب کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔
اجلاس کے شرکاء نے متفقہ طور پر واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف ریاست کا موقف بالکل واضح ہے اور امن و سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
آئینی و قانونی کارروائی کی توثیق کے لیے 13 اکتوبر کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس طلب کر لیے گئے ہیں، جہاں صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق لی جائے گی ۔





