اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے صوبائی اسمبلی کے اراکین کی سیکیورٹی واپس لینے یا منقطع کرنے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس خیبرپختونخوا کو ہنگامی مراسلہ ارسال کردیا ہے۔
مراسلے میں واضح کیا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا اسمبلی کے اراکین کو سیکیورٹی کی فراہمی اسمبلی (اختیارات، استثنیٰ اور مراعات) ایکٹ 2026 کے تحت قانونی تقاضوں سے مشروط ہے, اس لیے مناسب قانونی جواز اور متعلقہ ضابطے پر عمل کیے بغیر کسی بھی رکن کی سیکیورٹی واپس نہیں لی جاسکتی۔
اسپیکر بابر سلیم سواتی نے ہدایت کی ہے کہ صوبائی اسمبلی کے کسی بھی رکن کی حفاظت پر مامور سیکیورٹی اہلکاروں کو قانونی جواز اور مقررہ طریقۂ کار پورا کیے بغیر واپس نہ بلایا جائے اور نہ ہی ان کی تعیناتی منقطع کی جائے۔
مراسلے میں مزید مطالبہ کیا گیا ہے کہ جن اراکین اسمبلی کی سیکیورٹی پہلے ہی واپس لی جاچکی ہے، اسے فوری طور پر بحال کیا جائے۔
اسپیکر نے خبردار کیا ہے کہ صوبے کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال میں منتخب نمائندوں کی سیکیورٹی واپس لینے سے انہیں سنگین خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔
اگر ایسی کسی کارروائی کے نتیجے میں کسی رکن کو نقصان پہنچتا ہے یا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آتا ہے تو معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے متعلقہ قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
بابر سلیم سواتی نے زور دیا ہے کہ منتخب عوامی نمائندوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا اور ان کی سیکیورٹی سے متعلق قانونی تقاضوں پر عمل کرنا ناگزیر ہے۔





