خیبر پختونخوا میں امن و امان کے لیے گرینڈ حکمت عملی، ایپکس کمیٹی کا اہم اجلاس

پشاور: خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے وفاقی و صوبائی قیادت نے مشترکہ حکمت عملی پر کام تیز کر دیا ہے۔

 اس سلسلے میں گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی صدارت میں پشاور میں صوبائی ایپکس کمیٹی کا اہم اجلاس ہوا، جس میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے خصوصی شرکت کی۔

اجلاس میں صوبے کے 12 حساس اضلاع میں سکیورٹی انتظامات، فوج کی تعیناتی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیتوں میں اضافے سمیت مختلف اہم امور پر غور کیا گیا۔

 اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے خیبر پختونخوا کے عوام کو یقین دلایا کہ حالات کی بہتری کے لیے سخت اور مسلسل اقدامات کیے جائیں گے۔

 ان کا کہنا تھا کہ مشکل وقت کا مقابلہ مل کر کیا جائے گا اور ان شاء اللہ خیبر پختونخوا کو دیگر صوبوں سے آگے لے جانے کے لیے بھرپور کوششیں کی جائیں گی۔

یہ بھی پڑھیں : ‘عوامی سونامی’ کی ہوا نکل گئی، سہیل آفریدی کے اپنے ہی آبائی علاقے سے کوئی ایک کارکن بھی باہر نہ نکلا

گورنر فیصل کریم کنڈی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتیں متحد ہیں اور سکیورٹی کے معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔

 انہوں نے کہا کہ ضم اضلاع کے عوام کو امن، خوشحالی اور محفوظ سفری سہولتیں فراہم کرنا ریاست کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہے۔

 ان اقدامات سے صوبے میں سیاحت، سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ان کا دور صوبے میں امن اور خوشحالی کے حوالے سے یاد رکھا جائے۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس جنگ میں کامیابی کے لیے محض بیانات کافی نہیں، بلکہ عملی اقدامات اور مضبوط سیاسی قیادت ناگزیر ہیں۔

انہوں نے پانچ حساس اضلاع پر مشتمل خصوصی منصوبے پر دوبارہ کام شروع کرنے پر زور دیا۔ اس منصوبے کے پہلے مرحلے میں چھ ماہ کے دوران پولیس کو جدید اسلحہ اور ضروری سہولتیں فراہم کرکے مزید مؤثر اور بااختیار بنانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

یہ اجلاس خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد وفاقی حکومت کی جانب سے کیے گئے انتظامی اقدامات کے تناظر میں منعقد ہوا۔

یہ بھی پڑھیں : خیبر باڑہ میں پی ٹی آئی کے انتشار پسند ٹولے کی پولیس پر سیدھی فائرنگ، ہنگامہ آرائی کرنے والے ملزمان گرفتار

ان اقدامات میں 11 رکنی مشاورتی کونسل کا قیام، حساس اضلاع کے لیے علیحدہ سیکریٹریٹ کی تشکیل، چیف سیکریٹری کی تبدیلی اور اعلیٰ پولیس افسران کے تبادلے شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق سابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے دور میں ایپکس کمیٹی کا اجلاس بلانے میں تاخیر ہوتی رہی۔ انہوں نے اکتوبر 2025 میں عہدہ سنبھالنے کے کئی ماہ بعد فروری 2026 میں پہلا اجلاس طلب کیا تھا۔

 اس کے برعکس موجودہ قیادت نے ایمرجنسی کے نفاذ کے فوراً بعد سکیورٹی صورتحال کو ترجیح دیتے ہوئے ایپکس کمیٹی کا اجلاس منعقد کیا ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبے میں انتشار پھیلانے کی کوششوں کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا گیا۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبے میں امن و امان برقرار رکھنے اور دہشت گردی کے سدباب کے لیے تمام متعلقہ ادارے باہمی رابطے اور مربوط حکمت عملی کے تحت اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔

Scroll to Top