پشاور: خیبر پختونخوا میں سیاسی احتجاج کے لیے لاکھوں اور کروڑوں افراد کے مجمعے جمع کرنے کے دعووں کے برعکس سہیل آفریدی کے آبائی گھر کے باہر احتجاج کے لیے ایک بھی کارکن موجود نہ ہونے کے مناظر سامنے آگئے۔
احتجاجی سیاست کے بلند بانگ دعووں اور زمینی صورت حال کے درمیان فرق نے تحریک انصاف کی عوامی مقبولیت اور کارکنوں کی عملی شرکت سے متعلق سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
سہیل آفریدی کے آبائی گھر کے اطراف کے مناظر میں احتجاج کے لیے کارکنوں کی عدم موجودگی کو سیاسی حلقوں میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
تحریک انصاف کی قیادت بڑے اجتماعات اور عوامی حمایت کے دعوے کرتی رہی ہے، تاہم اپنے ہی رہنما کے آبائی علاقے میں احتجاج کے لیے کارکنوں کی عدم موجودگی ان دعووں کے برعکس منظر پیش کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : خیبر باڑہ میں پی ٹی آئی کے انتشار پسند ٹولے کی پولیس پر سیدھی فائرنگ، ہنگامہ آرائی کرنے والے ملزمان گرفتار
تحریک انصاف کی پالیسیوں سے مایوس افراد کے حوالے سے یہ دعوے بھی سامنے آئے ہیں کہ اقتدار ختم ہونے پر بعض لوگوں نے اطمینان کا اظہار کیا اور مٹھائیاں تقسیم کیں۔
اس صورت حال کو پارٹی قیادت کے لیے سیاسی پیغام قرار دیا جا رہا ہے کہ عوامی حمایت کا اندازہ صرف نعروں اور بڑے بڑے دعووں سے نہیں بلکہ عملی شرکت اور عوامی ردعمل سے بھی لگایا جاتا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اگر کوئی جماعت لاکھوں اور کروڑوں افراد کو سڑکوں پر لانے کے دعوے کرتی ہے تو اس کی اصل آزمائش احتجاج کے موقع پر کارکنوں کی موجودگی اور عوامی شرکت ہوتی ہے۔
سہیل آفریدی کے آبائی گھر کے باہر احتجاج کے لیے کارکنوں کی عدم موجودگی کے مناظر نے بھی ان دعووں کی حقیقت پر بحث چھیڑ دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پشاورمیں اہم اجلاس آج طلب، بڑے فیصلے متوقع، وفاقی وزیر داخلہ بھی پشاور پہنچ گئے
تحریک انصاف کے لیے یہ صورت حال اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ خیبر پختونخوا طویل عرصے سے اس کی سیاست کا مرکزی گڑھ رہا ہے۔
ایسے میں پارٹی رہنماؤں کے آبائی علاقوں میں احتجاجی سرگرمیوں کے دوران کارکنوں کی شرکت سیاسی حمایت کے اندازے میں اہم سمجھی جاتی ہے۔
تاہم کارکنوں کی عدم موجودگی کے ان مناظر کی بنیاد پر پورے صوبے میں تحریک انصاف کی حمایت کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔ احتجاج کے مقام، وقت اور دیگر حالات کی تصدیق کے بعد ہی صورت حال کا مکمل جائزہ لیا جا سکتا ہے۔





