پشاور: خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی دور کی مبینہ مالی اور انتظامی بے ضابطگیوں کی پرتیں اب کھلنے لگی ہیں، جس سے صوبے کے محکموں میں ہونے والی کرپشن کے ہوشربا انکشافات سامنے آ رہے ہیں۔
خیبر پختونخوا کے محکمہ صحت نے پی ٹی آئی کے دور حکومت میں مبینہ جعلی پی ایم ڈی سی رجسٹریشن اور غیر قانونی بنیادوں پر سرکاری ملازمتیں حاصل کرنے کے معاملے میں 30میڈیکل آفیسرز کو ملازمت سے برطرف کر دیا ہے ، متعلقہ افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی مکمل ہونے کے بعد برطرفی کی سزا برقرار رکھتے ہوئے ان سے ادا شدہ رقوم اور واجبات کی وصولی کا بھی حکم دیا گیا ہے ۔
جعلسازی اور اقربا پروری کی انتہا
یہ اسکینڈل اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ کس طرح پچھلے دور میں قواعد و ضوابط کو پاؤں تلے روند کر چہیتے اور من پسند افراد کو نوازا گیا، ان برطرف کیے جانے والے جعلساز ڈاکٹروں کو سال 2017 میں غیر قانونی طور پر بھرتی کیا گیا تھا، اور بعد ازاں صوبائی اسمبلی کے قانون کے ذریعے انہیں بچانے اور مستقل کرنے کی مذموم کوشش کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں : ریاستِ مدینہ کے دعویداروں کی شاہ خرچیاں بے نقاب، سرکاری گاڑیوں کے استعمال پر پی ٹی آئی وزراء کے گرد گھیرا تنگ
سب سے خوفناک انکشاف یہ ہے کہ اس جعلسازی میں ملوث افراد میں صوبے کے ایک اعلیٰ بیوروکریٹ کے دو بھانجے (جو آپس میں بھائی ہیں) بھی شامل ہیں، جنہیں سیاسی اور انتظامی آشیرباد حاصل تھی۔
عدالتی رکاوٹیں اور محکمانہ گھیرا تنگ
ان کرپٹ عناصر نے قانون سے بچنے کے لیے طویل عرصے تک دارالقضا سوات سے حکم امتناعی (Stay Order) لے رکھا تھا ، جیسے ہی یہ قانونی رکاوٹ ختم ہوئی، محکمہ صحت نے فوری حرکت میں آتے ہوئے متعلقہ افسران کو براہ راست شوکاز نوٹس جاری کیے۔
رول 15 کے تحت فنانس ڈیپارٹمنٹ کے ایڈیشنل سیکرٹری توصیف خالد کو بطور ذاتی سماعت افسر مقرر کیا گیا، جنہوں نے شواہد اور ریکارڈ کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد بڑی سزا کی سفارش کی ، جسے چیف سیکرٹری نے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے فوری طور پر منظور کر لیا۔
کون کون شامل اور کہاں تعینات تھے؟
برطرف ہونے والے ان میڈیکل آفیسرز میں ڈاکٹر واجد علی شاہ، ڈاکٹر محمد ہارون خان، ڈاکٹر سبحان اللہ، ڈاکٹر اعجاز احمد، ڈاکٹر اشفاق احمد، ڈاکٹر اقصیٰ اشرف، ڈاکٹر وقار احمد، ڈاکٹر رحیم خان، ڈاکٹر عثمان خان، ڈاکٹر طلا حسین، ڈاکٹر محمد قاسم، ڈاکٹر طارق خان، ڈاکٹر شیر عظیم شاہ، ڈاکٹر سجاد علی، ڈاکٹر قیصر رحیم اور ڈاکٹر فضل احد سمیت دیگر شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : شرپسندوں کے تمام ہتھکنڈے ناکام، امن و امان کی بحالی کے لیے سی سی پی او پشاور میاں سعید کی باڑہ آمد
یہ تمام ڈاکٹرز چارسدہ، خیبر، صوابی، دیر لوئر، مانسہرہ، ملاکنڈ، سوات، دیر اپر اور شانگلہ کے بنیادی مراکز صحت (BHUs)، دیہی مراکز صحت (RHUs) اور تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں میں تعینات تھے ۔
پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں جس طرح جعلی ڈگریوں اور رجسٹریشن پر سرکاری ہسپتالوں میں من پسند افراد کو ٹھونسا گیا، وہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ان کے نزدیک عوام کی صحت اور قانون کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔
طویل عرصے تک فائلوں کو التواء میں رکھنے کے بعد اب ان کے خلاف کارروائی کا آغاز تو کر دیا گیا ہے، لیکن اب وقت کا تقاضا یہ ہے کہ صرف برطرفی پر اکتفا نہ کیا جائے بلکہ ان تمام جعلسازوں کے خلاف مجرمانہ مقدمات درج کیے جائیں تاکہ سرکاری خزانے کو لوٹنے والا کوئی بھی شخص قانون کی گرفت سے بچ نہ سکے۔





