گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ ہوتے ہی آٹے کی قیمتوں میں بڑی کمی ریکارڈ

پشاور:  خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی انتشاری تحریک اور بدانتظامی کے دور کا خاتمہ ہوتے ہی عوام کے لیے بڑی راحتی خبر سامنے آ گئی ہے۔

 صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے آئینی نفاذ کے فوری بعد انتظامی اقدامات کے مثبت اثرات ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں، جس کے نتیجے میں صوبائی دارالحکومت پشاور میں آٹے کی ترسیل بحال ہو کر قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں جہاں عوام بنیادی غذائی اجناس بالخصوص آٹے کی شدید قلت، بدانتظامی اور آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں کے باعث شدید مشکلات کا شکار تھے، وہاں موجودہ آئینی و انتظامی تبدیلی کے ساتھ ہی مارکیٹ میں استحکام لوٹ آیا ہے۔

آٹا ڈیلرز ایسوسی ایشن کے مطابق پشاور کی مارکیٹ میں مکس آٹے کا 20 کلو کا تھیلا 400 روپے سستا ہو گیا ہے، جس کی قیمت 3 ہزار 400 روپے سے کم ہو کر اب 3 ہزار روپے پر آ گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : خیبر پختونخوا کے 12 حساس اضلاع کے لیے سید عباس احسن ایڈیشنل آئی جی تعینات، نوٹیفکیشن جاری

ڈیلرز کا کہنا ہے کہ انتشاری ٹولے کے دور میں سپلائی چین کے بگاڑ اور نااہلی کے باعث آٹے کی فراہمی شدید متاثر ہوئی تھی اور قیمتیں عوام کی پہنچ سے باہر ہو چکی تھیں۔

 تاہم گورنر راج کے تحت انتظامی مداخلت کے بعد آٹے کی سپلائی بحال کر دی گئی ہے جو قیمتوں میں اس بڑی کمی کی بنیادی وجہ بنی ہے۔

آٹے کی ترسیل کی منظم بحالی اور قیمتوں میں اس ڈرامائی کمی کے بعد عوام کو بڑا ریلیف ملا ہے، جبکہ شہریوں نے پی ٹی آئی دور کی بدعنوانی اور بدانتظامی کے مقابلے میں موجودہ آئینی سیٹ اپ کے فوری اور عوامی ترجیحات پر مبنی اقدامات کو خوش آئند قرار دیا ہے۔

Scroll to Top