پی ٹی آئی کا بدترین تعلیمی اور انتظامی نظام بے نقاب: کمزور ڈھانچے کے حامل اسکول ڈیتھ ٹریپ بن گئے،ہولناک رپورٹ کمشنر پشاور کو پیش

پشاور کے گنجان آباد علاقے میں واقع تین منزلہ اسکول کی عمارت کے المناک انہدام کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر پشاور نے کمشنر پشاور ڈویژن کو اپنی مفصل ابتدائی رپورٹ ارسال کر دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ ہولناک حادثہ اس وقت پیش آیا جب کمزور ساختی ڈھانچے کے حامل اسکول کی پہلی منزل کے کلاس روم کا بوجھ نہ سہار پانے کی وجہ سے اس کا ڈھانچہ گر کر براہِ راست گراؤنڈ فلور کے کلاس روم پر آ گراـ ، بدقسمتی سے حادثے کے وقت پہلی منزل اور گراؤنڈ فلور دونوں کے کلاس رومز طلبہ سے بھرے ہوئے تھے، اور اندر بچوں کی بیک وقت موجودگی ہی اس بڑے پیمانے پر جانی نقصان کی اصل وجہ بنی۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ صبح 8 بجکر 48 منٹ پر جیسے ہی ریسکیو کنٹرول روم کو اسکول کی چھت گرنے کی ایمرجنسی کال موصول ہوئی، تو ریسکیو کی فرسٹ رسپانس ٹیم صرف سات منٹ کے اندر اندر جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور فوری طور پر امدادی کارروائیوں کا آغاز کر دیا۔

اس ہنگامی آپریشن کے دوران دو ڈیزاسٹر رسپانس گاڑیاں بھی موقع پر موجود رہیں جبکہ ایک سو سے زائد ریسکیو اہلکاروں نے ملبے تلے پھنسے معصوم بچوں کو باہر نکالنے اور انہیں فوری طبی امداد فراہم کرنے کے لیے جان کی بازی لگا دی۔

ریسکیو ٹیموں کی جانب سے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملبے سے نکالے گئے زخمیوں اور جاں بحق ہونے والوں کو فوری طور پر لیڈی ریڈنگ اسپتال اور نصیراللہ بابر اسپتال منتقل کیا گیا۔ دونوں اسپتالوں کے ریکارڈ کے مطابق حادثے کے بعد مجموعی طور پر 89 مریض اسپتال لائے گئے جن میں سے 34 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ تاہم بروقت طبی امداد کی فراہمی کے باعث 52 زخمی مریضوں کو ابتدائی علاج معالجے کے بعد اسپتالوں سے فارغ کر دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں :خیبرپختونخوا میں اسمبلی بحالی کے بعد بھی ایمرجنسی کے تحت لایاگیا سسٹم ہی چلے گا : رانا ثناء اللہ کا تہلکہ خیز انکشاف

ڈپٹی کمشنر کی رپورٹ میں یہ بات بھی واضح کی گئی ہے کہ اسکول کی عمارت گرنے کی حتمی تکنیکی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے اب ایک تفصیلی انکوائری اور ٹیکنیکل تحقیقات کی جائیں گی تاکہ اس المناک حادثے کے ذمہ دار عوامل کو سامنے لایا جا سکے۔

Scroll to Top