روزانہ 5 گھنٹے سے کم سونا کن سنگین امراض کا سبب بن سکتا ہے؟ماہرین نے بتادیا

نیند ہماری روزمرہ زندگی کا ایک انتہائی ناگزیر حصہ ہے جو ہمارے جسم اور دماغ دونوں کی صحت کو برقرار رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔

موجودہ دور میں اسمارٹ ڈیوائسز کے بے دریغ استعمال نے لوگوں کو رات گئے تک جاگنے کا عادی بنا دیا ہے، جس کے صحت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

اگر کوئی شخص روزانہ پانچ گھنٹے سے بھی کم سونے کی عادت اپناتا ہے، تو یہ ایک معمول اسے متعدد خطرناک بیماریوں کا شکار بنا سکتا ہے۔

نیند کی کمی سے انسان کا مدافعتی نظام کمزور ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے جسم کی بیماریوں سے لڑنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے اور انسان نزلہ زکام جیسی عام بیماریوں میں جلدی مبتلا ہو جاتا ہے۔

کم یا بہت زیادہ طویل نیند دونوں ہی دل کی صحت کے لیے نقصان دہ ہیں، تاہم پانچ گھنٹے سے کم نیند کا دورانیہ فالج اور دل کے امراض کے خطرے کو نمایاں طور پر بڑھا دیتا ہے۔

مختلف طبی تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ناکافی نیند کے باعث بریسٹ کینسر، آنتوں اور مثانے کے کینسر کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔

البتہ اچھی خبر یہ ہے کہ روزانہ باقاعدگی سے سات سے آٹھ گھنٹے کی پرسکون نیند کو یقینی بنا کر ان خطرناک بیماریوں کے امکانات کو کم کیا جا سکتا ہے۔

صرف جسمانی صحت ہی نہیں بلکہ ایک رات کی خراب نیند بھی دماغ کی سوچنے، سمجھنے اور فیصلہ کرنے کی صلاحیتوں کو شدید متاثر کرتی ہے۔

نیند کی کمی انسان کو بھلکڑ بنا دیتی ہے، جس سے نہ صرف پرانی باتیں اور چیزیں بھولنے لگتی ہیں بلکہ نئی معلومات یا کوئی نیا ہنر سیکھنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔

وزن میں اضافے اور موٹاپے کے حوالے سے اکیس ہزار سے زائد افراد پر کی جانے والی ایک تحقیق سے معلوم ہوا کہ کم سونے والے افراد کا وزن تیزی سے بڑھتا ہے۔

روزانہ چھ گھنٹے سے کم سونے کے نتیجے میں جسم میں انسولین کی مزاحمت بڑھتی ہے، جو آگے چل کر ٹائپ ٹو ذیابیطس کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھا دیتی ہے۔

صحت کے علاوہ کم نیند کا منفی اثر سڑکوں پر بھی نظر آتا ہے، جہاں چھ گھنٹے سے کم سونے والے افراد کے لیے ٹریفک حادثات کا خطرہ تین گنا زیادہ ہو جاتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ امریکی نیشنل سلیپ فاؤنڈیشن نے تنبیہ کی ہے کہ نامکمل نیند کی صورت میں افراد ڈرائیونگ کرنے سے پہلے دو بار سوچیں۔

اگر یہ تمام طبی نقصانات بھی آپ کو پوری نیند کی ترغیب نہ دے سکیں، تو کم نیند کی وجہ سے چہرے پر قبل از وقت جھریاں اور جلد کے ڈھیلے ہونے جیسے مسائل بھی سامنے آ سکتے ہیں۔

 یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ یہ تمام تفصیلات طبی جریدوں پر مبنی ہیں اس لیے اس حوالے سے کسی بھی مسئلے کی صورت میں اپنے معالج سے ضرور مشورہ کریں۔

Scroll to Top