قومی کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز بائیں ہاتھ کے بلے باز فخر زمان کا کہنا ہے کہ وائٹ بال کرکٹ میں اس وقت اہم تبدیلیاں کی جا رہی ہیں اور آنے والے ورلڈ کپ کو مدنظر رکھتے ہوئے بہترین ٹیم کمبی نیشن تشکیل دیا جا رہا ہے۔
راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے قومی بیٹر نے بتایا کہ کھلاڑیوں نے حال ہی میں فرسٹ کلاس کرکٹ میں حصہ لیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لمبی فارمیٹ یعنی ریڈ بال کرکٹ کھیلنے کے بعد ون ڈے کرکٹ کھیلنا قدرے آسان محسوس ہوتا ہے۔
فخر زمان نے ڈومیسٹک اور بین الاقوامی کرکٹ کے فرق کو واضح کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے خود حال ہی میں فرسٹ کلاس میچز کے دوران تقریباً ڈیڑھ سو اوورز تک فیلڈنگ کی ہے۔ طویل فارمیٹ کی کرکٹ سے کھلاڑیوں کو جسمانی اور ذہنی طور پر مضبوط ہونے کا موقع ملتا ہے۔
شائقین کرکٹ کے ردعمل پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جب بھی کوئی کھلاڑی میدان میں اچھی کارکردگی دکھاتا ہے تو عوام دل کھول کر اس کی تعریف کرتے ہیں۔ تمام کھلاڑیوں کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ وہ بہترین کھیل پیش کریں، تاہم ہر دن ایک جیسا نہیں ہوتا۔
عالمی مقابلے کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے فخر زمان نے اعتراف کیا کہ پوری ٹیم اس بات سے باخوبی واقف ہے کہ قومی ٹیم نے کافی عرصے سے کوئی بڑا بین الاقوامی ٹورنامنٹ نہیں جیتا۔ اگرچہ ٹیم سیمی فائنل اور فائنل تک پہنچی ہے لیکن اب تمام تر توجہ انعام جیتنے پر مرکوز ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ ورلڈ کپ کے لیے ڈریسنگ روم میں مختلف حکمت عملیوں پر کام جاری ہے جن میں سے کچھ منصوبے فی الحال خفیہ رکھے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آئندہ ہونے والی سہ ملکی سیریز حتمی کمبی نیشن بنانے میں انتہائی مددگار ثابت ہوگی۔





