پشاور: پشاور کے علاقے دیر کالونی میں نجی اسکول کی چھت گرنے کے المناک حادثے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ ایس ایس پی آپریشنز نے کیپٹل سٹی پولیس آفیسر (سی سی پی او) پشاور کو ارسال کر دی ہے۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسکول کی عمارت نہ صرف انتہائی پرانی تھی بلکہ ناقص تعمیراتی معیار بھی اس ہولناک تباہی کی بنیادی وجہ بنا۔
اس المناک اور دل دہلا دینے والے حادثے کی تفصیلات کے مطابق دیر کالونی میں واقع نجی اسکول کی چھت اچانک منہدم ہو گئی تھی، جس کے نتیجے میں 33 معصوم طلبہ اور 2 خاتون اساتذہ موقع پر ہی شہید ہو گئے۔
اس خوفناک واقعے نے نہ صرف صوبائی دارالحکومت بلکہ پورے ملک کو غم و اندوہ میں مبتلا کر دیا ہے اور تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم بچوں کی حفاظتی تدابیر پر شدید سوالات اٹھا دیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : قومی اداروں کی بدولت ہی سرحدیں محفوظ ہیں، فضل الرحمان اپنا متنازع بیان فوری واپس لیں، عوام کا سخت ردِعمل
پولیس ذرائع کے مطابق واقعے کی اطلاع صبح 9 بج کر 5 منٹ پر موصول ہوئی، جس کے فوراً بعد ریسکیو 1122 اور پولیس ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور امدادی کارروائیاں شروع کی گئیں۔ پولیس کی جانب سے واقعے کا باقاعدہ مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
ایس ایس پی آپریشنز فرحان کی جانب سے سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید کو بھیجی گئی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ عمارت کا پرانا ہونا اور تعمیری خامی چھت گرنے کا سبب بنی، تاہم حادثے کی اصل وجوہات، ممکنہ غفلت اور مجرمانہ کوتاہی کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔
تحقیقاتی حکام اس بات کا تعین کر رہے ہیں کہ آیا عمارت کی تعمیر اور دیکھ بھال میں حفاظتی ایس او پیز اور قانونی تقاضے پورے کیے گئے تھے یا نہیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث ذمہ داروں اور غفلت کے مرتکب افراد کا تعین حتمی تحقیقاتی نتائج کے بعد کیا جائے گا اور قانون کے مطابق سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔





