شہدائے کارگل کی زمین پر ڈاکہ: نیب کے پاس فضل الرحمان کی کرپشن کی مکمل فائل موجود ہونے کا انکشاف!

جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے خلاف 2008 میں نیب کی جانب سے قائم کیے گئے کارگل کے شہداء کی زمین کی الاٹمنٹ کیس میں سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔ 

اس اسٹوری کو بریک کرنے والے سینئر صحافی طارق وحید نے انکشاف کیا ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں وطنِ عزیز کے لیے قربانیاں دینے والے شہداء کے لیے مختص زمینیں مولانا فضل الرحمٰن نے اپنے رشتہ داروں میں الاٹ کروائیںمگر نیب کی مکمل تیاری کے باوجود یہ کیس مفاداتی سیاست کی نذر کر دیا گیا۔

سینئر صحافی طارق وحید کے مطابق قومی احتساب بیورو (نیب) نے 2008 میں اس اسکینڈل پر انتہائی ٹھوس اور تفصیلی کیس بنایا تھا، جس میں زمین حاصل کرنے والے ایک ایک شخص کے نام اور متعلقہ زمینوں کے خسرہ نمبر تک شامل کیے گئے تھے۔

 انہوں نے بتایا کہ نیب کے پاس اس پالیسی کرپشن اور بندر بانٹ کا مکمل اور شفاف ریکارڈ موجود تھا، لیکن اس کے باوجود نیب نے اس سنگین معاملے کو آگے نہیں بڑھایا اور اعلیٰ سطح پر سیاسی جوڑ توڑ کے باعث کیس کو التوا میں ڈال کر تحقیقات کا راستہ روک دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں : محکمہ صحت خیبر پختونخوا میں اہم نامزدگی، ڈاکٹر فضل الرحمان ڈائریکٹر ڈیزگنیٹڈ ڈسٹرکٹس مقرر

طارق وحید نے زور دے کر کہا کہ اگر نیب آج بھی بلا تفریق اور شفاف تحقیقات کرے تو اس کی ساری تفصیلات قوم کے سامنے آ جائیں گے۔

Scroll to Top