ایک نہیں، دو دو گاڑیاں ذاتی قبضے میں، پی ٹی آئی دور میں فارچیونر اور HAVAL کس کس کے پاس پہنچیں؟

پشاور:خیبر پختونخوا کے عوام کی بھالی اور ترقی کے لیے دیے گئے غیر ملکی قرضوں کے بے دریغ ضیاع اور مالی بدعنوانی کی ایک اور لرزہ خیز داستان سامنے آ گئی ہے۔

 سینئر صحافی طارق آفاق کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق محکمہ مواصلات و تعمیرات (C&W) خیبر پختونخوا کے تحت غیر ملکی قرضوں کی مدد سے جاری پروجیکٹ KP-RRDP کی 12 انتہائی قیمتی اور لگژری گاڑیوں کا غیر متعلقہ، غیر قانونی اور ذاتی عیاشیوں کے لیے استعمال بے نقاب ہو گیا ہے۔

صحافی طارق آفاق کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم (ایکس) پر جاری کردہ معلومات کے مطابق غیر ملکی امداد اور قرضوں سے خریدی گئی کروڑوں روپے مالیت کی ٹویوٹا فارچیونر (Fortuner) اور ہاول (HAVAL) جیسی پرتعیش گاڑیاں پروجیکٹ کے بعض سابق و موجودہ عہدیداروں، پی ٹی آئی سے منسلک سیاسی شخصیات اور ان کے قریبی رشتہ داروں و دوستوں کی تحویل میں ہیں۔

تفصیل کے مطابق عبدالہادی عرف پتنگ:  ان کے زیرِ استعمال 2 انتہائی قیمتی گاڑیاں (ایک نئی فارچیونر اور ایک ہاول) بتائی گئی ہیں۔

سابق سی ایم سہیل آفریدی کا گٹھ جوڑ: سہیل آفریدی کے سابق پرنسپل سیکرٹری زبیر نیازی کو ایک نئی فارچیونر گاڑی دیے جانے کا انکشاف ہوا ہے، جبکہ انصاف یوتھ ونگ کے سابق مرکزی رہنما اور سہیل آفریدی کے انتہائی قریبی ساتھی انجینئر ہشتم خان کے زیرِ استعمال بھی 2 گاڑیاں (ایک فارچیونر اور ایک ہاول) شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : مہمند میں بیک وقت چار بچوں کی پیدائش، بہتر طبی نگہداشت کے لیے پشاور منتقل

سابق پراجیکٹ ڈائریکٹر عمیر احمد جان: ان کے زیرِ استعمال ایک فارچیونر اور ایک ہاول جبکہ ان کے والد کے زیرِ استعمال بھی ایک سرکاری گاڑی ہونے کی اطلاع ہے۔

پروجیکٹ کے فنانس منیجر محمد طلحہ: ان کی ذات کے ساتھ 3 قیمتی گاڑیاں (ایک فارچیونر اور دو ہاول) منسلک کی گئی ہیں، جبکہ ان کے بھائی کے زیرِ استعمال ایک ہاول اور ان کے ایک قریبی دوست کے زیرِ استعمال فارچیونر گاڑی بتائی جاتی ہے۔

ڈپٹی ڈائریکٹر پروکیورمنٹ سید واثق زاہد شاہ: ان کے زیرِ استعمال بھی ایک ہاول گاڑی بتائی گئی ہے۔

اگر یہ تفصیلات درست ثابت ہوتی ہیں تو معاملہ سرکاری وسائل کے استعمال، منصوبے کے اثاثوں کی نگرانی اور گاڑیوں کی الاٹمنٹ کے قواعد سے متعلق اہم سوالات اٹھاتا ہے۔

خاص طور پر یہ جاننا ضروری ہوگا کہ گاڑیاں کن قواعد کے تحت جاری کی گئیں، ان کے مجاز استعمال کنندگان کون تھے اور آیا ان کا استعمال منصوبے کے سرکاری مقاصد کے مطابق ہو رہا تھا یا نہیں۔

Scroll to Top