دہشت گردوں کے سامنے گھٹنے ٹیکنے والوں کا پردہ فاش: افغانستان سے حملے اور خاموشی، موجودہ انتظامیہ کا بڑا ہنگامی ایکشن، وزیراعظم کا ہنگامی سرپرائز پلان تیار!

خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی گزشتہ حکومت کی ناکامیوں، بیڈ گورننس اور دہشت گردی پر مجرمانہ خاموشی کے بعد اب صوبے کو تباہی کی دلدل سے نکالنے کے لیے وزیراعظم پاکستان کا ہنگامی اور بڑا منصوبہ سامنے آ گیا ہے۔ نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے اہم رہنماؤں نے سنسنی خیز انکشافات کر کے گزشتہ حکمرانوں کا پردہ چاک کر دیا ہے۔

مشیر اطلاعات اے آر ڈی سی محمود جان بابر نے انکشاف کیا کہ خیبر پختونخوا کے 12 اضلاع دہشت گردی سے شدید ترین متاثر ہیں، جن کی نگرانی اب براہِ راست وزیراعظم خود کر رہے ہیں۔ ان اضلاع کے سنسنی خیز مسائل کے حل کے لیے متاثرہ خاندانوں سے تعلق رکھنے والے نمائندوں پر مشتمل ایک خصوصی سیٹ اپ تشکیل دے دیا گیا ہے۔

محمود جان بابر نے دعویٰ کیا کہ وزیراعظم نے واضح کر دیا ہے کہ ان اضلاع کے لیے فنڈز کی کوئی کمی نہیں ہوگی اور این ایف سی کا پیسہ الگ رکھا جائے گا جبکہ بیوروکریسی کو بھی کسی قسم کی رکاوٹ بننے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ “بیڈ گورننس ہی دہشت گردی کی سب سے بڑی وجہ ہے” اور پی ٹی آئی دور کی تباہی کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ تیراہ آج بھی پشاور سے 50 سال پیچھے ہے۔

دوسری جانب مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا ثمر ہارون بلور نے پی ٹی آئی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے دھماکہ خیز انکشاف کیا کہ پچھلی حکومت کے نااہل حکمران دہشت گردوں کے خلاف بات کرنے سے بھی خوفزدہ تھے اور افغانستان سے کوواڈ کاپٹرز پاکستانی شہریوں پر حملے کرتے رہے لیکن سابق حکمران خاموش تماشائی بنے رہے۔

یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی دور کا تعلیمی جمود ختم : گورنر راج کے نفاذ کے بعد کے پی میں تاریخی تعلیمی اصلاحات، پشاور لائبریری رات 12 بجے تک کھولنے کا فیصلہ!

انہوں نے بتایا کہ سابق حکومت نے اقتدار میں آنے کے 112 دن بعد اپیکس کمیٹی کا اجلاس بلایا تھا جبکہ موجودہ سیٹ اپ نے پہلے ہی دن ہنگامی اجلاس بلا کر کام شروع کر دیا۔ ثمر ہارون بلور کا کہنا تھا کہ انہیں 3 سے 6 ماہ کی سخت ٹائم لائن دی گئی ہے جس کے اندر صوبے کو اس بھیانک دلدل سے نکال کر واضح روڈ میپ پیش کیا جائے گا۔

Scroll to Top