خیبر پختونخوا کی سیاسی و انتظامی ابتری، بدامنی اور اڈیالہ جیل سے احکامات صادر کیے جانے کے سنگین معاملے پر وفاقی حکومت کا انتہائی سخت اور سنسنی خیز بیان سامنے آ گیا ہے۔
وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے واضح الفاظ میں خبردار کر دیا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) پر آئینی طور پر مکمل پابندی عائد کرنے کی بے شمار گنجائش اور قانونی راستہ موجود ہے۔
وزیرِ مملکت داخلہ طلال چوہدری نے اپنے ایک بیان میں پی ٹی آئی کی کارکردگی اور طرزِ حکمرانی کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے کہا کہ بحیثیت ایک منتخب سیاسی حکومت ہم کسی بھی سیاسی جماعت پر پابندی لگانے جیسا سخت قدم اٹھانے کے حامی نہیں ہیں اور نہ ہی ہماری خواہش تھی کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کیا جائے مگر صوبے میں پیدا کی جانے والی لاقانونیت اور سیکیورٹی کی سنگین صورتِ حال نے ریاست کو سخت فیصلے کرنے پر مجبور کیا۔
پی ٹی آئی کی صوبائی حکمرانی کے 13 سالہ سیاہ دور کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے طلال چوہدری نے انکشاف کیا کہ گزشتہ 13 تا 14 سالوں کے طویل ترین اقتدار میں تحریکِ انصاف نے ملک اور بالخصوص خیبر پختونخوا کے لیے دہشت گردی کو کبھی کوئی مسئلہ یا چیلنج سمجھا ہی نہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ صوبے میں دہشت گردی اور عدم استحکام کے بنیادی اسباب پی ٹی آئی حکومت کی سنگین غفلت، ترجیحات کی عدم موجودگی اور مجرمانہ خاموشی کا نتیجہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : پاک افغان کشیدگی:روس کی ثالثی کی بڑی پیشکش، روسی صدر پیوٹن کا دورۂ پاکستان فائنل ،سفیر فیصل ترمذی نے وقت بتا دیا
انتظامی ناکامیوں کا پردہ چاک کرتے ہوئے انہوں نے مزید سنسنی خیز انکشاف کیا کہ جب صوبے کی باگ ڈور کبھی اڈیالہ جیل، کبھی بنی گالہ اور کبھی مراد سعید جیسے غیر سنجیدہ عناصر کے ہاتھوں میں دی جائے گی اور پوری حکومت کو ان کے اشاروں پر چلایا جائے گا، تو پھر نتائج ایسے ہی بھیانک اور تباہ کن برآمد ہوں گے۔
انہوں نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا کو اس طرح کی کھلواڑ اور سیاسی ایڈونچرزم کے رحم و کرم پر مزید نہیں چھوڑا جا سکتا۔





