12 اضلاع میں تبادلے اب صرف وزیراعظم شہباز شریف کی منظوری سے ہوں گے

پشاور: حکومتِ پاکستان نے خیبر پختونخوا کے 12 مخصوص اضلاع میں سرکاری ملازمین بالخصوص محکمہ تعلیم کی تعیناتیوں اور تبادلوں کو باقاعدہ کنٹرول میں لیتے ہوئے اس عمل کے لیے وزیراعظم شہباز شریف پاکستان کی منظوری اور ایڈمنسٹریٹر کی سفارش کو لازمی قرار دے دیا ہے۔

 اس نئے طریقہ کار کے تحت اب ان اضلاع میں کسی بھی اہلکار کی تعیناتی یا تبادلے کے احکامات محض صوبائی سطح پر جاری نہیں ہو سکیں گے بلکہ اس کے لیے ایڈیشنل چیف سیکرٹری (مخصوص اضلاع) بطور ایڈمنسٹریٹر سفارش مرتب کریں گے جس کے بعد وزیراعظم کی حتمی منظوری سے باضابطہ احکامات جاری کیے جائیں گے۔

اس انتظامی فیصلے کا سخت نفاذ اس وقت سامنے آیا جب ایریا ڈویلپمنٹ سیکرٹریٹ کے سیکشن آفیسر نے سیکرٹری محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم خیبر پختونخوا کو ایک رسمی مراسلہ ارسال کیا۔

یہ بھی پڑھیں : گورنر راج کے پیشِ نظر بیوروکریسی میں بڑی اکھاڑ پچھاڑ: 12 اہلکاروں کی خدمات گورنر ہاؤس سپرد

 اس مراسلے میں ڈائریکٹوریٹ آف ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کی جانب سے مخصوص اضلاع میں ایک سرکاری اہلکار کی تعیناتی، تبادلے یا ایڈجسٹمنٹ کے حوالے سے جاری کردہ حالیہ حکم نامے پر اعتراض اٹھاتے ہوئے متعلقہ محکمہ سے وزیراعظم کی حتمی منظوری اور ایڈمنسٹریٹر کی درکار سفارش فوری طور پر فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

مراسلے میں حکومتِ پاکستان کے کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ بنیادی اعلامیے کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ متعلقہ اعلامیے کے پیرا گراف 5 کی رو سے مخصوص اضلاع کے اندر بیوروکریسی اور سرکاری عملے کے تمام تر اہم تبادلے اور تعیناتیاں صرف اور صرف ایڈمنسٹریٹر کی تجاویز پر وزیراعظم کی منظوری ہی سے وقتاً فوقتاً کی جا سکتی ہیں۔

 ایریا ڈویلپمنٹ سیکرٹریٹ نے محکمہ تعلیم سے تمام قانونی و آئینی ضوابط اور مراسلات کی فراہمی کا تقاضا کیا ہے تاکہ مذکورہ کیس میں آگے کی کارروائی کو آگے بڑھایا جا سکے۔

Scroll to Top