پشاور: خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی انتظامیہ کے تحت محکمہ معدنیات میں بڑی اصلاحات اور سخت انتظامی کنٹرول کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔
صوبائی محکمہ معدنیات، ڈائریکٹوریٹ جنرل مائنز، مائنز لیبر ویلفیئر کمشنریٹ اور انسپکٹریٹ آف مائنز سمیت تمام ذیلی دفاتر میں افسران کے تبادلوں، تعیناتیوں، ڈیپوٹیشن اور اضافی چارج کے لیے گورنر کے مشیر برائے معدنیات ڈاکٹر سید سرفراز علی شاہ کی پیشگی منظوری لازمی قرار دے دی گئی ہے۔
اس سلسلے میں گورنر کے مشیر ڈاکٹر سید سرفراز علی شاہ نے سیکرٹری محکمہ معدنیات خیبر پختونخوا کو ایک باضابطہ مراسلہ جاری کیا ہے، جس کے تحت محکمہ معدنیات کے تمام انتظامی امور اور کروڑوں روپے کے معدنی حقوق پر وفاقی و صوبائی اعلیٰ انتظامیہ کا بلاواسطہ پہرہ بیٹھ گیا ہے۔
مراسلے میں ہدایت کی گئی ہے کہ افسران و اہلکاروں کی تبدیلی، ڈیپوٹیشن یا کسی بھی انتظامی تبدیلی کے احکامات جاری کرنے سے قبل فائل مشیر کے دفتر سے منظور کروانا ہو گی۔
علاوہ ازیں وہ احکامات جو پہلے سے منظور ہو چکے ہیں لیکن اب تک جاری نہیں کیے گئے، ان کی مکمل تفصیلات بھی فوری طور پر مشیر کے دفتر میں جمع کرانے کا حکم دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : 12 اضلاع میں تبادلے اب صرف وزیراعظم شہباز شریف کی منظوری سے ہوں گے
مراسلے کے مطابق کسی بھی ناگہانی یا ہنگامی صورت حال میں اگر پیشگی منظوری ممکن نہ ہو، تو متعلقہ حکام کو اسی روز تحریری وجوہات کے ساتھ مشیر دفتر کو آگاہ کرنا لازمی ہو گا۔
دوسری جانب معدنی لیز، لائسنسنگ اور دیگر تمام قیمتی معدنی حقوق پر بھی سخت شرائط عائد کر دی گئی ہیں۔ مراسلے کے تحت منرل ٹائٹلز کمیٹی کے اجلاس کا ایجنڈا اور متعلقہ فائلیں اجلاس سے کم از کم تین ورکنگ دن پہلے مشیر کے دفتر بھیجی جائیں گی، جبکہ اجلاس کی منٹس اور کارروائی دو دن کے اندر فراہم کرنا ہو گی۔
معدنی لیز یا لائسنس کے اجراء، تجدید، توسیع، منتقلی، بحالی، منسوخی، مشترکہ منصوبوں (Joint Ventures)، منافع میں شراکت اور نیلامی کے نوٹس جاری کرنے سے قبل مختصر تفصیلات اور فائل نمبر کے ساتھ مشیر کے دفتر کو مطلع کرنا ضروری ہو گا۔
اگر ایجنڈے میں کوئی اضافی نقطہ شامل کیا جائے تو اس کی قانونی وجوہات ریکارڈ کر کے فوری رپورٹ پیش کرنا ہو گی۔





