پشاور دیر کالونی سکول سانحہ: عمارت غیر قانونی اور رہائشی نکلی، تحقیقاتی رپورٹ جاری

پشاور کے علاقے دیر کالونی میں 15 اکتوبر کو نجی سکول کی چھت گرنے کےافسوسناک واقعے میں 34 معصوم بچوں اور ایک خاتون ٹیچر کی ہلاکت کے بعد کیپٹل میٹروپولیٹن گورنمنٹ کی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آ گئی ہے جس نے متعلقہ اداروں کی مجرمانہ غفلت اور نجی سکول مالکان کے خطرناک کھیل کو بے نقاب کر دیا ہے۔

رپورٹ کے سنسنی خیز انکشافات کے مطابق جس عمارت میں سکول قائم کیا گیا تھا، وہ بنیادی طور پر رہائشی مکان تھا اور سکول کے لیے بنائی ہی نہیں گئی تھی۔ 

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سکول کی پہلی منزل کی چھت انتہائی ناقص، عارضی اور کچی تھی جسے محض لکڑی کے تختوں پر اینٹیں رکھ کر بنایا گیا تھا۔ جیسے ہی بچوں اور فرنیچر کا وزن بڑھا، یہ کچی چھت برداشت نہ کر سکی اور لمحوں میں زمین بوس ہو گئی، جس کے نتیجے میں 34 پھول جیسے بچے اور ان کی ٹیچر ملبے تلے دب کر جاں بحق ہو گئے۔

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق اس عمارت کا منظور شدہ نقشہ کیپٹل میٹروپولیٹن گورنمنٹ کے ریکارڈ میں سرے سے موجود ہی نہیں۔ یہ عمارت 2011 میں اس وقت کی تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن (TMA) ٹاؤن 4 کے دائرہ اختیار میں تعمیر کی گئی تھی۔ پلاننگ کنٹرول انسپکٹر نے صفائی پیش کرتے ہوئے کہا کہ عمارت باہر سے بظاہر خطرناک نہیں لگ رہی تھی، اسی لیے اس کی رپورٹ درج نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں : محکمہ معدنیات کے تمام ذیلی اداروں میں تبادلے اور اضافی چارجز معطل

دوسری جانب میٹروپولیٹن گورنمنٹ نے ملبہ پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی (PSRA) پر ڈالتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ نجی سکولوں کی رجسٹریشن، ریگولیشن اور عمارتوں کی حفاظت کی مانیٹرنگ کی تمام تر ذمہ داری پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی کی تھی۔

Scroll to Top