خیبر پختونخوا پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی (پسرا) نے صوبے بھر کے تمام نجی اسکولوں اور کالجوں کی عمارتوں کے لیے متعلقہ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے منظور شدہ نقشے اور ساختیاتی فٹنس حاصل کرنا لازمی قرار دے دیا ہے۔
اس سلسلے میں تمام نجی تعلیمی اداروں کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ اپنی عمارتوں کے منظور شدہ نقشوں اور اجازت ناموں کی تصدیق یقینی بنائیں۔
نوٹیفکیشن کے مطابق نجی تعلیمی اداروں کی انتظامیہ کو تمام منظور شدہ نقشے اور اجازت ناموں کی تصدیق شدہ نقول معائنے کے لیے اسکولوں میں تیار رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔
اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ مجاز ادارے کی پیشگی منظوری کے بغیر اسکول کی عمارت میں کسی قسم کی اضافی تعمیرات یا دوسری و تیسری منزل بنانے کی ہرگز اجازت نہیں ہو گی۔
اس کے علاوہ اسکول کی عمارت میں کسی بھی قسم کی توسیع، چھت پر کیبن بنانے یا عارضی کلاس رومز کی تعمیر کے لیے بھی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی منظوری لازمی قرار دی گئی ہے۔
پسرا نے سخت الفاظ میں واضح کیا ہے کہ پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی کی رجسٹریشن کسی بھی صورت عمارت کے نقشے کی منظوری یا اس کے مضبوط اور محفوظ (فٹنس) ہونے کا متبادل نہیں سمجھی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں : سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی سولر پینلز کی قیمتوں اور طلب میں اضافے کا رجحان
نوٹیفکیشن میں مزید ہدایت کی گئی ہے کہ جن اسکولوں کی عمارتوں کو غیر محفوظ یا خطرناک قرار دیا گیا ہے، وہاں جب تک متعلقہ ادارے کی جانب سے تحریری حفاظتی کلیئرنس (Safety Clearance) جاری نہیں کی جاتی، تعلیمی سرگرمیاں کسی طور بحال نہیں ہو سکیں گی۔ اس فیصلے پر سخت عملدرآمد کے لیے صوبے کے تمام ڈپٹی کمشنرز اور بلڈنگ کنٹرول اتھارٹیز کو نوٹیفکیشن کی نقول ارسال کر دی گئی ہیں۔





