خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے قیام کے ساتھ ہی سابقہ پی ٹی آئی حکومت کی امن و امان کے حوالے سے سنگین نااہلی، بے حسی اور مجرمانہ غفلت کے پردے فاش ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ گزشتہ 13 سالوں تک پولیس اصلاحات کے کھوکھلے دعوے کرنے والی سابقہ کرپٹ حکومت نے صوبے میں سیکیورٹی کے اہم ترین منصوبوں کو ردی کی ٹوکری میں ڈال رکھا تھا، جنہیں اب گورنر انتظامیہ نے ترجیحی بنیادوں پر بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس سلسلے میں چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان کی زیر صدارت ایک اہم اور اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں آئی جی خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید، ایڈیشنل چیف سیکرٹری پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ، اور دیگر حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں انکشاف ہوا کہ پی ٹی آئی کے دورِ اقتدار میں پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے انتہائی اہم منصوبے عدم توجہی اور فنڈز کی عدم فراہمی کے باعث سالوں سے التوا کا شکار تھے۔
اجلاس کے دوران گورنر راج کی انتظامی پالیسی کے تحت فیصلہ کیا گیا کہ پولیس کے جو منصوبے تکمیل کے قریب ہیں، انہیں ترجیحی بنیادوں پر فنڈز فراہم کر کے فوری مکمل کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ سی ٹی ڈی اور پولیس کی استعداد کار بڑھانے کے لیے درکار تمام تکنیکی ضروریات، جدید آلات، اسلحے کی فراہمی اور زیرِ تعمیر تھانوں کی عمارتوں کو ہنگامی بنیادوں پر مکمل کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
اجلاس میں خصوصی اور حساس اضلاع کے لیے پولیس اسکیموں پر کام کی رفتار تیز کرنے اور صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی (پی ڈی ڈبلیو پی) سے معطل شدہ منظوریوں کا عمل جلد مکمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
صوبے کے مختلف سیف سٹی منصوبوں اور ڈیجیٹائزیشن کی موجودہ زبوں حالی پر بریفنگ کے بعد واضح کیا گیا کہ سابقہ حکومت کی نالائقی کی وجہ سے جو تکنیکی منصوبے التوا کا شکار تھے، انہیں فوری طور پر فعال کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : صوبے میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں تھی، عوام لاوارث تھے، آفتاب شیرپاؤپختونخوا کی سابقہ حکومت پر برس پڑے
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت دہشت گردی کے خلاف صرف سیاست کرتی رہی جبکہ گورنر راج قائم ہوتے ہی پولیس اور سیکیورٹی اداروں کو حقیقی معنوں میں مضبوط بنانے کے لیے عملی اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں، جو صوبے میں امن و امان کی بحالی کے لیے انتہائی اہم پیش رفت ہے۔





