امریکہ میں بیٹھ کر واٹس ایپ کے ذریعے پختونخوا کا نظامِ صحت چلانے والے نوشیروان کے کالے کارناموں کے تہلکہ خیز انکشافات

پشاور(زاہد میروخیل) عوامی نیشنل پارٹی نے پی ٹی آئی کے 13 سالہ دورِ اقتدار میں ایم ٹی آئی ایکٹ اور صحت کارڈ کے تحت اربوں روپے کی کرپشن اور سنگین بے ضابطگیوں کا پول کھولتے ہوئے فوری شفاف تحقیقات کا مطالبہ کر دیا ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختونخوا کے ترجمان ارسلان خان ناظم نے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گزشتہ 13 سالوں کے دوران ایم ٹی آئی ایکٹ کے تحت اسپتالوں کے نظام کو منظم طریقے سے تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا گیا ہے۔

اس پورے انتظامی ڈھانچے کی بربادی کی بنیادی ذمہ داری عمران خان کے کزن ڈاکٹر نوشیروان برکی پر عائد ہوتی ہے، جو بیرونِ ملک یعنی امریکا میں بیٹھ کر صرف واٹس ایپ کے ذریعے صوبے کے صحت جیسے انتہائی حساس اور اہم ترین شعبے کو ریموٹ کنٹرول سے چلا رہے ہیں۔

ترجمان نے سوال اٹھایا کہ اسپتالوں کے انتظامی و مالی معاملات، سرکاری رقوم کے بے دریغ استعمال اور اس میں ہونے والی  کرپشن کی تحقیقات کرکے کب ذمہ داروں کا کٹہرے میں احتساب کیا جائے گا؟

عوام کو یہ جاننے کا بنیادی حق حاصل ہے کہ صحت کے شعبے کے لیے مختص کیے جانے والے اربوں روپے آخر کہاں اور کس طرح خرچ کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں : مشرقِ وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال میں ‘مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ’ امن اور دفاع کی واحد یقینی حقیقت بن گیا

صوبے کی مالیاتی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو 2013 سے لے کر اب تک خیبر پختونخوا کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت مجموعی طور پر 6,400 ارب روپے کی خطیر رقم موصول ہوئی ہے۔

اتنے بڑے مالی وسائل ملنے کے باوجود صوبے کے طول و عرض میں عوام بنیادی سہولیات سے محروم اور زبوں حالی کا شکار ہیں۔

ماہرین اور سیاسی حلقوں کے مطابق  صوبائی خودمختاری اور مالیاتی فنڈز کی آمد کے ساتھ ہی شفافیت کے تقاضوں کو پسِ پشت ڈالا گیا، جس کی وجہ سے عوامی فلاحی منصوبے سیاسی ترجیحات کی بھینٹ چڑھ گئے۔

صحت کارڈ اسکینڈل اور  بے ضابطگیاں

ارسلان خان ناظم نے انکشاف کیا کہ عمران خان کے دورِ حکومت میں صرف صحت کارڈ کے فلیگ شپ پروگرام کے تحت 28 ارب 61 کروڑ روپے کی  بے ضابطگیاں اور خردبرد کی گئی۔

اس پروگرام کے دوران شفافیت کے تمام اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے من پسند اسپتالوں کو غیر ضروری طور پر صحت کارڈ کے پینل میں شامل کیا گیا۔

صورتحال اس وقت مزید سنگین ہوگئی جب صوبے کے 10 اضلاع میں ایسے اسپتالوں کو بھی اس پروگرام کا حصہ بنا دیا گیا جو سرکاری سطح پر رجسٹرڈ ہی نہیں تھے۔

ترجمان نے کڑے الفاظ میں سوال کیا کہ غیر رجسٹرڈ اسپتالوں کو فنڈز کی ادائیگیاں کیوں کی گئیں اور اس میں ہونے والی مالی بے ضابطگیوں کا حساب اب کون دے گا؟

یہ بھی پڑھیں : فضل الرحمان کی شناخت ‘ڈیزل’ کیوں بنی، یہ نام کس نے دیا اور اس کی حقیقت کیا ہے؟ حقائق سامنے آ گئے

عوام کے خون پسینے کی کمائی اور ٹیکسز کا پیسہ کسی بھی سیاسی جماعت یا فرد کی ذاتی جاگیر نہیں ہے کہ اس کا من مانی اور بے دریغ استعمال کیا جائے اور کوئی پوچھ گچھ یا جواب دہی بھی نہ ہو۔

شفاف تحقیقات اور قانون کا کٹہرہ

موجودہ حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ صحت کے شعبے میں ہونے والے تمام تر اخراجات، صحت کارڈ پروگرام کے تحت ہونے والی ادائیگیاں اور ایم ٹی آئی ایکٹ کے تحت چلنے والے اسپتالوں کے جملہ انتظامی و مالی معاملات کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات عمل میں لائی جائیں۔

عوامی نیشنل پارٹی نے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ  کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال میں ملوث تمام عناصر کو فوری طور پر قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے تاکہ قومی خزانے کو لوٹنے والوں کا کڑا احتساب ہو سکے۔

صحت اور مالیاتی شعبے میں اصلاحات کے نام پر نافذ کیے جانے والے ماڈلز نے اگر زمینی حقائق کو نظر انداز کیا ہو تو نتائج ہمیشہ منفی نکلتے ہیں۔

جب پالیسی سازی مقامی ضروریات کے بجائے فاصلاتی اور ذاتی تعلقات کی بنیاد پر چلائی جائے، تو فنڈز کی روانی کے باوجود زمینی سطح پر بہتری نظر نہیں آتی۔

6,400 ارب جیسے بھاری فنڈز اور صحت کارڈ جیسے منصوبوں میں قواعد سے ہٹ کر غیر رجسٹرڈ اداروں کو شامل کرنا اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ داخلی آڈٹ اور ریگولیٹری چیک اینڈ بیلنس کا نظام کمزور تھا۔

پائیدار ترقی اور عوامی فلاح کے لیے ضروری ہے کہ ہر مالی لین دین کو پبلک اکاؤنٹس اور شفاف نگرانی کے دائرے میں لایا جائے تاکہ وسائل کا مؤثر استعمال یقینی بنایا جا سکے۔

Scroll to Top