سردیوں کی آمد سے پہلے بڑا معاشی بریک تھرو: قطر کا پاکستان کے لیے بڑا تحفہ،قومی نیٹ ورک میں گیس کی فراہمی شروع!

ملک میں بالخصوص سردیوں کی آمد سے قبل پیدا ہونے والے شدید توانائی بحران پر قابو پانے کے لیے وفاقی حکومت نے ایک بڑا اور اہم معاشی بریک تھرو حاصل کر لیا ہے۔

عالمی اسپاٹ مارکیٹ میں گیس کی آسمان چھوتی قیمتوں اور خطے کے معاشی دباؤ کے درمیان پاکستان کو اکتوبر کے جاری مہینے میں قطر سے ایل این جی کا دوسرا کارگو کامیابی سے موصول ہو گیا ہے۔

وزارتِ توانائی کے باوثوق ذرائع کے مطابق قطر سے موصول ہونے والے اس تازہ ترین کارگو سے گیس کی فراہمی کو ملکی نیشنل گرڈ اور سپلائی نیٹ ورک میں فوری طور پر شامل کر دیا گیا ہے جس سے آنے والے دنوں میں ممکنہ شدید گیس شارٹیج کو کم کرنے میں بڑی مددد ملے گی۔

وزارتِ توانائی کے اندرونی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ حکومتِ وقت کی اولین ترجیح عالمی اسپاٹ مارکیٹ سے انتہائی مہنگی ایل این جی کی خریداری سے مکمل پرہیز کرنا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق قطر کے ساتھ طویل المدتی طے شدہ معاہدے کے تحت پاکستان کو حاصل ہونے والی ایل این جی کی قیمت تقریباً 14 سے 15 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو پڑتی ہےجبکہ اس کے برعکس کھلی یا اسپاٹ مارکیٹ سے گیس کی قیمت 30 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یوتک جا پہنچتی ہے۔

یہ واضح فرق ظاہرکرتا ہے کہ اسپاٹ مارکیٹ کی گیس قطر کے ساتھ کی گئی تجارتی ڈیل سے دوگنا سے بھی زیادہ مہنگی ہے۔

اگر حکومت اسپاٹ خریدی کی طرف جاتی تو ملکی خزانوں پر اربوں ڈالرز کا اضافی بوجھ پڑتا تاہم دور اندیشی اور معاہدے کی پاسداری کے باعث اہم بچت ممکن بنائی گئی ہے۔

اکتوبر کے صرف تین ہفتوں کے دوران قطر سے دو بڑے کارگوز کا موصول ہونا اس بات کی علامت ہے کہ حکومت سردیوں میں متوقع گیس بحران سے نبٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : اسلام آباد اور راولپنڈی میں بجلی کا بڑا بریک ڈاون یا ضروری سسٹم اپ گریڈ؟شیڈول جاری

اگرچہ حکومت نے ہنگامی بنیادوں پر مزید 18 ایل این جی کارگوز کی خریداری کا منصوبہ بھی تیار رکھا ہے لیکن اصل کوشش یہی ہے کہ درآمدی اخراجات پر قابو رکھتے ہوئے سستے طویل المدتی معاہدوں پر مکمل انحصار قائم رکھا جائے تاکہ عوام اور صنعتی شعبے کو کم سے کم قیمت پر بلاتعطل گیس فراہم کی جا سکے۔

Scroll to Top