پشاور میں رہائشی مکانوں میں قائم نجی اسکولوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ

پشاور:پشاور میں رہائشی علاقوں اور مکانوں کے اندر قائم نجی تعلیمی اداروں کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

 ابتدائی سروے کے دوران صوبائی دارالحکومت میں ایسے 2500 نجی اسکولوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو رہائشی عمارتوں میں چلائے جا رہے ہیں، جن میں ایک بڑی تعداد غیر رجسٹرڈ اداروں کی بھی ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق، شہر کے مختلف علاقوں میں 3 اور 5 مرلے کے چھوٹے مکانوں تک کو تعلیمی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جا رہےہے۔

 حیرت انگیز طور پر ان اسکولوں کے مالکان میں ایک بڑی اکثریت سرکاری ملازمین، بالخصوص اساتذہ کی شامل ہے۔

ذرائع کا بتانا ہے کہ پشاور کے علاوہ صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی گھروں کے اندر قائم نجی تعلیمی اداروں کی جانچ پڑتال کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ڈالر کی ہوس اور ویوز کے پجاری یہ یوٹیوبرز اور ڈالر مافیا ملک میں انتشار پھیلانے کا ایجنڈا چلا رہے ہیں، خواجہ آصف

 ابتدائی نشاندہی کے مطابق پشاور کے جن علاقوں میں یہ اسکول سب سے زیادہ تعداد میں پائے گئے ہیں، ان میں:

 یوسف آباد، فقیر آباد اور افغان کالونی
لطیف آباد، نوتھیہ جدید و قدیم اور ہشتنگری
رامداس، دلہ زاک روڈ اور پشاور بورڈ کے مختلف علاقے
چارسدہ روڈ کے مختلف مواصلاتی زمرے، رنگ روڈ اور شہر کے مختلف نواحی علاقے شامل ہیں

رپورٹ کے مطابق پشاور کے رورل (دیہی) علاقوں میں رہائشی مکانوں میں قائم اسکولوں کی تعداد سب سے زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے۔

 محکمہ جاتی ذرائع کا کہنا ہے کہ رہائشی علاقوں میں تجارتی سرگرمیوں اور اسکولوں کے قیام سے نہ صرف اردگرد کے رہائشیوں کو مشکلات کا سامنا ہے بلکہ بچوں کی حفاظت اور بنیادی سہولیات کے حوالے سے بھی سنگین سوالات جنم لے رہے ہیں۔

 اسی پیشِ نظر غیر رجسٹرڈ اور رہائشی علاقوں میں قائم ان اسکولوں کو بند کرنے کے لیے عملی اقدامات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

Scroll to Top