سی پیک کے ذریعے غیر قانونی لکڑی کی ترسیل کا انکشاف

Pakistan SCO Summit 2026

پشاور: خیبر پختونخوا میں غیر قانونی لکڑی کی اسمگلنگ کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے دوران محکمہ جنگلات نے انکشاف کیا ہے کہ اسمگلرز سی پیک اور موٹروے نیٹ ورک کو غیر قانونی لکڑی اور دیگر جنگلاتی پیداوار کی نقل و حمل کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

محکمہ جنگلات کی رپورٹ کے مطابق موٹروے کے داخلی راستوں کے قریب فاریسٹ چیک پوسٹیں موجود نہ ہونے کے باعث غیر قانونی لکڑی لے جانے والی مشتبہ گاڑیوں کی نگرانی اور انہیں روکنا انتہائی مشکل ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ محکمہ جنگلات کے پیٹرول اسکواڈز کو موٹروے یا سی پیک روٹس پر داخل ہونے کے بعد مشتبہ گاڑیوں کا تعاقب کرنے یا انہیں روکنے کا اختیار حاصل نہیں، جس کی وجہ سے غیر قانونی لکڑی کی نقل و حمل کے خلاف کارروائی محدود ہوجاتی ہے۔

محکمہ جنگلات نے اس صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ محکمہ کے مطابق لکڑی اور دیگر جنگلاتی پیداوار کی غیر قانونی نقل و حمل روکنے کے لیے موٹروے کے نظام میں مؤثر نگرانی اور متعلقہ اداروں کے درمیان تعاون ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیں : پاکستان میں نئی الیکٹرک گاڑی، شوقین افراد کے لیے خوشخبری

رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ موٹروے پر داخل ہونے والی لکڑی یا جنگلاتی پیداوار سے لدی گاڑیوں کو صرف ان راستوں سے گزرنے کی اجازت دی جائے جنہیں خیبر پختونخوا فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ نے قانونی نقل و حمل کے لیے باقاعدہ طور پر نوٹیفائی کیا ہے۔

محکمہ جنگلات نے مزید سفارش کی ہے کہ اس کے پیٹرول اسکواڈز کو موٹروے نیٹ ورک پر لکڑی یا جنگلاتی پیداوار لے جانے والی مشتبہ گاڑیوں کا تعاقب کرنے اور انہیں روکنے کا اختیار دیا جائے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ موٹروے پولیس کو غیر قانونی لکڑی کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائی میں محکمہ جنگلات کو مکمل تعاون فراہم کرنا چاہیے، تاکہ سی پیک اور موٹروے کے ذریعے ہونے والی غیر قانونی نقل و حمل کی مؤثر روک تھام ممکن بنائی جاسکے۔

Pakistan SCO Summit 2026
Scroll to Top