ناشتہ نہ کرنے کا بڑا نقصان سامنے آگیا، تحقیق میں اہم انکشاف

باقاعدگی سے ناشتہ، مناسب نیند اور روزانہ جسمانی سرگرمی ذہنی مضبوطی بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے، فاسٹ فوڈ اور نیند کی کمی کے منفی اثرات بھی سامنے آگئے۔

ناشتہ صرف دن کا آغاز کرنے کے لیے ضروری نہیں بلکہ ذہنی صحت اور دباؤ سے نمٹنے کی صلاحیت بہتر بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

ایک نئی امریکی تحقیق کے مطابق باقاعدگی سے ناشتہ کرنے اور جسمانی سرگرمیوں میں حصہ لینے والے افراد میں نفسیاتی لچک بہتر ہونے کا رجحان پایا گیا ہے جس سے انہیں ذہنی تناؤ اور پریشانی کی کیفیت سے سنبھلنے میں مدد مل سکتی ہے۔

بینگہمٹن یونیورسٹی کی اس تحقیق میں 400 افراد کی غذائی عادات، نیند اور جسمانی سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا۔

جرنل آف امریکن کالج ہیلتھ میں شائع تحقیق کے مطابق ہفتے میں کم از کم پانچ مرتبہ ناشتہ کرنے اور روزانہ 20 منٹ جسمانی سرگرمی میں حصہ لینے والے افراد میں نفسیاتی لچک بہتر پائی گئی۔

نفسیاتی لچک سے مراد مشکلات، ذہنی دباؤ اور پریشان کن حالات کا سامنا کرنے کے بعد خود کو سنبھالنے اور معمول کی زندگی کی طرف واپس آنے کی صلاحیت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ضلع نوشہرہ میں اضاخیل گودام میں پڑی ہزاروں میٹرک ٹن ناقص اور مضر صحت گندم کے ذخیرہ پر چھاپہ

تحقیق میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ رات کے وقت چھ گھنٹے سے کم نیند لینا اور فاسٹ فوڈ کا زیادہ استعمال ذہنی لچک اور مجموعی صحت پر منفی اثرات مرتب کرنے سے وابستہ ہوسکتا ہے۔

ٹیکساس یونیورسٹی کی جولائی 2026 میں پیش کی گئی ایک تحقیق کے مطابق ناشتہ کرنے والے افراد دن بھر میں فائبر، آئرن، زنک اور کولین جیسے اہم غذائی اجزا نسبتاً زیادہ حاصل کرتے ہیں۔

اس کے برعکس، ناشتہ چھوڑنے والے افراد میں بعض ضروری غذائی اجزا کی مقدار کم رہنے کا امکان ہوسکتا ہے۔

تحقیق کے مطابق ناشتے میں پروٹین سے بھرپور غذاؤں کو شامل کرنا جسم کی غذائی ضروریات پوری کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے، متوازن غذا، مناسب نیند اور باقاعدہ جسمانی سرگرمی مجموعی صحت برقرار رکھنے کے لیے اہم ہیں۔

Scroll to Top