فیس بک کی مالک کمپنی کو اربوں ڈالر کا جھٹکا، وجہ سامنے آگئی

امریکی ریاست نیو میکسیکو کی عدالت نے فیس بک صارفین کے ڈیٹا کے استعمال سے متعلق گمراہ کن بیانات دینے پر ٹیکنالوجی کمپنی میٹا کو 25 ارب ڈالر جرمانہ ادا کرنے کا حکم دے دیا۔

رپورٹ کے مطابق عدالت نے صارفین کے تحفظ کے قانون کی 4 کروڑ 30 لاکھ سے زائد خلاف ورزیوں کا نوٹس لیتے ہوئے یہ فیصلہ سنایا۔

یہ مقدمہ 2018 میں سامنے آنے والے کیمبرج اینالیٹیکا اسکینڈل سے منسلک ہے جس میں برطانوی کمپنی نے ایک تھرڈ پارٹی کوئز ایپ کے ذریعے فیس بک کے تقریباً 8 کروڑ 70 لاکھ صارفین کا ڈیٹا حاصل کیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق اس معلومات کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی 2016 کی انتخابی مہم کے لیے ووٹرز کی پروفائلز تیار کرنے میں استعمال کیا گیا۔

 

مقدمے میں کہا گیا کہ فیس بک کو دسمبر 2015 میں ڈیٹا کی منتقلی کا علم ہوگیا تھا تاہم کمپنی نے دو سال سے زائد عرصے تک عوام کو اس بارے میں آگاہ نہیں کیا، جیوری نے قرار دیا کہ میٹا اور اس کے عہدیداروں کے متعدد بیانات گمراہ کن تھے۔

 

نیو میکسیکو کے قانون کے تحت ہر خلاف ورزی پر 5 ہزار ڈالر تک جرمانہ عائد کیا جاسکتا تھا تاہم عدالت نے آئینی حدود کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی جرمانہ 25 ارب ڈالر مقرر کیا۔

ریاستی حکام نے 35 سے 40 ارب ڈالر جرمانے کا مطالبہ کیا تھا، جبکہ میٹا نے اس رقم کو کم کرنے کی استدعا کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:

الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس بڑھائے جانے کا امکان

 

عدالتی حکم کے مطابق، جرمانے کی رقم ریاست کے تعلیمی نظام پر خرچ کی جائے گی، دوسری جانب میٹا نے فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ فیصلہ ریاست میں کاروبار کرنا مشکل بنا دے گا۔

 

واضح رہے کہ 2019 میں امریکی فیڈرل ٹریڈ کمیشن بھی اسی اسکینڈل کے سلسلے میں میٹا پر 5 ارب ڈالر جرمانہ عائد کرچکا ہے۔

Scroll to Top