کینیڈا میں آزادی کے ترانے اور بھارت مخالف نعروں کی گونج: ایڈمنٹن میں خالصتان ریفرنڈم کا طوفان، بھارتی حکومت میں کھلبلی مچ گئی!

کینیڈا کی سرزمین ایک بار پھر بھارت کے لیے شدید سیاسی اور سفارتی دھچکے کا مرکز بن گئی ہے جہاں شہرِ ایڈمنٹن میں آزادی کے ترانوں اور نعروں نے بھارتی حکومت کے ایوانوں میں ہلچل مچا دی ہے۔

کینیڈا کے شہر ایڈمنٹن میں خالصتان ریفرنڈم کے لیے پولنگ کا ہنگامی اور بڑا مرحلہ شروع ہوتے ہی دنیا بھر کی توجہ اس سنسنی خیز معرکے پر مرکوز ہو گئی ہے۔

البرٹا اسمبلی کے باہر سکھ برادری کا سمندر امڈ آیا ہے جہاں امریکہ، کینیڈا اور مختلف شہروں سے ہزاروں کی تعداد میں سکھ رہنما اور کارکنان جوق در جوق ایڈمنٹن پہنچ چکے ہیں۔ پولنگ مراکز کے باہر ووٹرز کی طویل اور میلوں لمبی قطاریں اس بات کا ثبوت ہیں کہ سکھ قوم اب بھارتی تسلط سے نجات کے لیے کس قدر بے تاب ہے۔

ووٹنگ کے اس عمل کے دوران پورا علاقہ خالصتان کے حق میں لگنے والے نعروں اور بھارت مخالف نعروں سے گونج اٹھا، جس نے مودی حکومت کی نیندیں اڑا کر رکھ دی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : ہمارا ایک ہی عزم، دہلی خالصتان کا حصہ بنے گا، گرپتونت سنگھ پنوں

خالصتان ریفرنڈم میں سکھ برادری نے جوش و خروش سے شرکت کرتے ہوئے بھارتی پنجاب کو ایک آزاد ریاست قائم کرنے کا دوٹوک اور تاریخی مطالبہ دہرایا ہے۔ پولنگ کے اس موقع پر مشتعل سکھ مظاہرین نے بھارتی ریاست کی غنڈہ گردی اور جارحیت کے خلاف شدید نعرے بازی کی جبکہ شام پانچ بجے تک جاری رہنے والے اس پولنگ عمل نے نئی دہلی کے سفارتی حلقوں میں کہرام مچا دیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق کینیڈا میں ہونے والا یہ ریفرنڈم بھارت کے ٹوٹنے کی جانب ایک بہت بڑا اور خطرناک قدم بنتا جا رہا ہے۔

Scroll to Top