سوشل میڈیا کے اس دور میں جہاں معلومات کا پھیلاؤ لمحوں میں ہوتا ہے وہیں جھوٹی خبریں اور من گھڑت دعوے بھی معاشرے میں خوف و ہراس پھیلانے کا بڑا ذریعہ بنتے جا رہے ہیں۔
حال ہی میں ضلع خیبر کے تاریخی علاقے لنڈی کوتل کے حوالے سے ایک ایسا ہی بے بنیاد اور گمراہ کن دعویٰ سوشل میڈیا کی زینت بنا جس نے عوام میں بے چینی پھیلانے کی بھرپور کوشش کی۔
سوشل میڈیا پر تیزی سے گردش کرنے والی ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ کچھ نقاب پوش مسلح افراد، جو پولیس کی وردیوں میں ملبوس تھے
مبینہ طور پر بغیر کسی اجازت کے ڈسٹرکٹ پریس کلب کے اندر داخل ہو گئے۔ یہی نہیں بلکہ یہ بھی الزام لگایا گیا کہ ان افراد نے پریس کلب کے مختلف حصوں کی تلاشی بھی لی۔
تاہم جب اس پورے معاملے کا آزادانہ فیکٹ چیک کیا گیا تو یہ تمام دعوے سرے سے جھوٹے اور من گھڑت ثابت ہوئے۔
اس واقعے کے حق میں کوئی بھی ایسا قابلِ اعتماد ثبوت یا شواہد سامنے نہیں آ سکے جو اس خبر کو سچا ثابت کر سکیں۔
پختون ذرائع اور فیکٹ چیک کے مطابق لنڈی کوتل پریس کلب میں اس نوعیت کا کوئی واقعہ پیش ہی نہیں آیا۔
اس قسم کی غیر مصدقہ خبریں پھیلانے کا بنیادی مقصد عوام میں خوف کی فضا پیدا کرنا اداروں کے خلاف ابہام پھیلانا اور زمینی حقائق کو مسخ کر کے پیش کرنا ہوتا ہے۔ ایسی خبریں معاشرتی ہم آہنگی کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں۔
اس صورتحال کے پیش نظر ذمہ دار شہریوں کی حیثیت سے ہم سب پر یہ فریضہ عائد ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا پر نظر آنے والی ہر خبر پر فوری طور پر آنکھیں بند کر کے یقین کرنے سے گریز کریں۔
یہ بھی پڑھیں :خیبرپختونخوا میں زلزلے کے جھٹکے
جعلی ویڈکسی بھی خبر یا دعوے کو بغیر تصدیق کے آگے شیئر کرنے سے باز رہیں خصوصاً ایسی پوسٹس جو کسی قسم کے مستند ثبوت کے بغیر ہوں۔
معلومات کو آگے بڑھانے سے پہلے ان کی صداقت کو ضرور جانچیں تاکہ جھوٹے پروپیگنڈے اور غلط معلومات کے اس سلسلے کو روکا جا سکے۔





