پی ٹی آئی کا دوغلا پن بے نقاب، رہنما بیرونِ ملک یوٹیوبرز سے لاتعلقی کا ڈھونگ رچا رہے ہیں، سرکاری اکاؤنٹ پر ویڈیوز کی تشہیر جاری

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں اور پارٹی کے سرکاری سوشل میڈیا ہینڈلز کے درمیان پیدا ہونے والے کھلے تضاد نے سیاسی و صحافتی حلقوں میں ایک نیا طوفان برپا کر دیا ہے۔

 تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور سینئر رہنما شوکت یوسفزئی کی جانب سے بیرونِ ملک مقیم یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس کے بیانیے سے لاتعلقی اور انہیں پارٹی مفادات کے لیے نقصان دہ قرار دیے جانے کے بعد، پارٹی کے اپنے سرکاری ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ کی کارروائیوں نے اس تضاد کو ہر خاص و عام کے سامنے ننگا کر دیا ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے تصویری ثبوتوں میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پارٹی کے سرکاری ایکس اکاؤنٹ سے اکتوبر کی 12، 14 اور 17 تاریخوں میں انہی بیرونِ ملک بیٹھے یوٹیوبرز کے وی لاگز، شدید اور متنازع تبصروں اور ویڈیوز کو ری ٹویٹ اور پروموٹ کیا گیا۔

جس کے بعد یہ سوال تیزی سے گردش کر رہا ہے کہ اگر یہ یوٹیوبرز اور ایکٹیوسٹس واقعی تحریک انصاف کے لیے خطرہ اور ‘نقصان دہ ہیں، تو پھر پارٹی کا اپنا آفیشل پلیٹ فارم ان کے بیانیے کی تشہیر کے لیے کیوں استعمال ہو رہا ہے؟

یہ بھی پڑھیں : فضل الرحمان کی جائیدادوں کا بڑا ڈرامہ بے نقاب، 94 کنال اراضی کا کوئی قانونی بینک ریکارڈ نہیں

شوکت یوسفزئی کی جذباتی پریس کانفرنس اور بیرونِ ملک بیٹھے یوٹیوبرز پر پارٹی کو نقصان پہنچانے کے کھلے الزامات نے معاملے کی سنگینی کو مزید بڑھا دیا ہے۔

 ذرائع اور سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر پارٹی کی اعلیٰ قیادت ان یوٹیوبرز کو اپنا ترجمان ماننے سے انکار کرتی ہے، تو پھر یہ وضاحت بھی قیادت ہی کو دینی ہو گی کہ سرکاری ہینڈل کس کی ہدایت پر ان کے مواد کو آگے بڑھا رہا ہے؟

کیا پارٹی کی سوشل میڈیا ٹیم مرکزی قیادت کے دائرہ اختیار سے باہر کام کر رہی ہے یا پھر لاتعلقی کے یہ بیانات صرف احتساب اور قانونی کارروائیوں سے بچنے کا ایک ظاہری ڈرامہ ہیں؟

اس پالیسی تضاد نے جہاں پارٹی کی ابلاغی حکمتِ عملی پر سوالات اٹھائے ہیں، وہیں سوشل میڈیا پر شدید طنز و مزاح اور قیاس آرائیوں کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ ناقدین کی جانب سے یہ طنزیہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ آخر تحریک انصاف کے اصل فیصلے کہاں سے ہو رہے ہیں؟

کیا پارٹی پر گولڈ اسمتھ خاندان، برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئی سکس (MI6) یا امریکی سی آئی اے (CIA) کی چھاپ ہے؟

یہ بھی پڑھیں : پانچ روز مسلسل کمی کے بعد سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ 1400 روپے مہنگا ہوگیا

اگرچہ ان قیاس آرائیوں اور طنز کا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں، لیکن آفیشل ہینڈل اور قیادت کے بیانات کے درمیان یہ خلیج ظاہر کرتی ہے کہ پارٹی کے اندر بیانیے پر کنٹرول کا شدید بحران موجود ہے۔

تحریک انصاف کی مرکزی قیادت اب ایک بڑے امتحان کا شکار ہے۔ بیرسٹر گوہر اور شوکت یوسفزئی کو فوری طور پر یہ واضح کرنا ہو گا کہ کیا سوشل میڈیا پالیسی ان کے کنٹرول میں ہے یا پھر بیرونِ ملک سے چلنے والے ہینڈلرز ہی پارٹی کے اصل فیصلے نافذ کر رہے ہیں۔

 جب تک یہ تضاد ختم نہیں ہوتا، تحریک انصاف کا ابلاغی محاذ خود اس کے اپنے رہنماؤں کے بیانات کی زد میں رہے گا۔

Scroll to Top