فوج کیخلاف بیان بازی تحریک انصاف کی پالیسی نہیں ہے ،بیرسٹر سیف

فوج کیخلاف بیان بازی تحریک انصاف کی پالیسی نہیں ہے ،بیرسٹر سیف

پی ٹی آئی اور کابینہ میں شمولیت عمران خان کا فیصلہ ،عمران کی کہی ہوئی بات پارٹی پالیسی اور منشور ہے،40ہزار دہشتگردوں کی آباد کاری کا دعویٰ بے بنیاد ہے۔
خیبرپختونخوا حکومت کے مشیراطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ صوبائی کابینہ میں انکی شمولیت عمرا ن خان کا فیصلہ تھا اور جس دن انہیں بانی پی ٹی آئی کہیں گے، اسی دن استعفیٰ دے دیں گے۔ افغانستان سے خراب تعلقات کا اثر براہ راست پاکستان پر پڑ رہا ہے اس لئے صوبائی حکومت نے عوامی سطح پر بات کرنے کیلئے جرگہ بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا تاہم وفاقی حکومت کی جانب سے ٹی او آرز پر کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔

پختون ڈیجیٹل پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ ہم افغانستان سے سفارتی سطح پر نہیں بلکہ عوامی سطح پر بات کرنا چاہتے تھے۔عمران خان سے ملاقات کے دوران بھی کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کی بڑی وجہ افغانستان سے خراب تعلقات ہے۔جو معاملات چل رہے ہیں اسکی بڑی وجہ افغانستان سے خراب تعلقات ہیں۔ ہماری خواہش تھی کہ قبائلی مشران، علمائے کرام پر مشتمل وفد افغانستا بھیجیں، عوامی نمائندوں سے بات چیت کریں اور اس جرگہ میں مسائل کا حل نکالیں۔ افغانستان میں دہشت گردی کے واقعات کا اثر براہ راست پاکستان اور پاکستان میں بدامنی کا اثر افغانستان پر ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ دوسرے ممالک کے ساتھ تجارت کے فروغ کیلئے رابطہ کاری کہ پاکستان کے آئین میں اجازت ہے۔ اسکی بڑی مثال سابق وزیراعلیٰ اور موجودہ وزیراعظم شہبازشریف کی ہے کہ جب وہ وزیراعلیٰ تھے تو انہوں نے ترکی اور چین کے ساتھ پنجاب کے وزیراعلیٰ کے طور پر معاہدے کئے ہیں۔ اب بھی مریم نواز نے چین کا دورہ کیا، بیلاروس گئیں اور معاہدے پر دستخط کئے۔ اگر پنجاب کا وزیراعلیٰ معاہدہ کرسکتا ہے تو خیبرپختونخوا کا وزیراعلیٰ کیوں نہیں کرسکتا۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی حکومت نے 2022ءمیں خود دعوت دی کہ وہ پاکستان اور کالعدم تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات میں ثالث بننے کو تیار ہیں، اسی تناظر میں تین دور ہوئے جس میں دو مذاکراتی دور میں خود وہ (بیرسٹر سیف) بھی موجود تھے۔مذاکرات کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچےکیونکہ مذاکرات کے دوران ہی ایمن الظواہری پر حملہ ہوا اور انہیں ہلاک کیا گیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ 40ہزار دہشت گرد واپس لانے کے دعوے کرنے والے ایک دہشت گرد کا نام لیں، پتہ بتائیں کہ آج وہ کہاں رہ رہا ہے یا ہم لے کر آئے ہیں تو اسکو گرفتار کرنا، کیس کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔یہ صرف سیاسی بیانات دیتے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ کالعدم تحریک طالبان کے کسی فرد کو دوبارہ آباد نہیں کیا گیا۔
بیرسٹرسیف کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو، اگر کالعدم ٹی ٹی پی سے نہیں کرنے، کم ازکم افغان حکومت سے مذاکرات کا آغاز کریں۔

پی ٹی آئی کے اندرونی حلقوں سے بیرسٹر سیف کے استعفے کے مطالبے پر ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اور صوبائی کابینہ میں شمولیت کا فیصلہ عمران خان کا تھا،وہ جب بھی کہیں گے اسی دن استعفیٰ دے دوں گا۔
فوج کے خلاف پی ٹی آئی کے بیانات سے متعلق بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ فوج کے خلاف بیان بازی پارٹی کی پالیسی نہیں اور عمران خان کہہ چکے ہیں کہ انکی فوج کے ساتھ بحیثیت ادارہ کوئی دشمنی نہیں۔ کسی افسر کے ساتھ اختلاف کا مطلب یہ نہیں ادارے کی مخالفت ہے۔عمران خان بارہا کہہ چکے ہیں کہ فوج پر غیرضروری تنقید نہیں ہوگی۔

آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے حوالے سے بیرسٹرسیف کا کہنا تھا کہ انکے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، جب جنرل عاصم منیر ڈی جی آئی ایس آئی تھے تو انکے ساتھ ملاقات ہوتی تھی لیکن ابھی ان سے دوستی والا تعلق نہیں۔

پی ٹی آئی کی تنظیم اور حکومت کے درمیان اختلافات پر گفتگو کرتے ہوئے کہ یہ ایک تاثر ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ کچھ ساتھی وزیراعلیٰ سے ناراض ہیں، کچھ کی پارٹی سے ناراضگی ہے۔کبھی بھی بیانات آجاتے ہیں جس سے یہ تاثر جاتا ہے کہ اختلافات ہیں،لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس جماعت میں صرف ایک فرد یعنی عمران خان ہے اور انکی کہی ہوئی بات پارٹی کا منشور، طریقہ کار اور پالیسی ہے۔

مائنز اینڈ منرل ایکٹ پر پارٹی کے اراکین کے بائیکاٹ پر گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹرسیف نے کہا کہ پالیسی پر اعتراض جمہوریت ہے لیکن نقصان اس وقت ہوتا ہے جب اسی اختلاف کی وجہ سے انتشار پیدا ہو۔ عمران خان کے واضح ہدایات آئے ہیں کہ اس قانون پر ان سے گفتگو ہوگی ، علی امین گنڈاپور جلد ملاقات کریں گے، جنید اکبر اور دیگر ذمہ داران بھی ملیں گے، عمران خان کو جب بریفنگ دی جائیگی تو وہ واضح پالیسی دیں گے۔کسی کو اگر اس بل پر اعتراض ہے تو انکو وضاحت دی جائیگی، مطمئن نہ ہو تو ترامیم لے کر آئیں۔

Scroll to Top