نااہلی کے خلاف احتجاج مہنگا پڑ گیا، پی ٹی آئی قیادت پر فردجرم عائد

نااہلی کے خلاف احتجاج مہنگا پڑ گیا، پی ٹی آئی قیادت پر فردجرم عائد

ہر جگہ کہا جاتا ہے مقدمات درج ہوگئے ٹرائل نہیں ہو رہا، فرد جرم مؤخر کرنے کی استدعا پر عدالت کے ریمارکس

تفصیلات کے مطابق انسداد دہشت گردی عدالت نے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی نااہلی پر فیض آباد کے مقام پر احتجاج کے کیس کی سماعت کی، جس میں عدالت نے پی ٹی آئی کے رہنماؤں سمیت دیگر ملزمان پر فردِ جرم عائد کر دی۔ تاہم ملزمان نے صحت جرم سے انکار کیا ہے۔

کیس کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے کی، جس میں پی ٹی آئی رہنما فیصل جاوید خان، عامر کیانی، واثق قیوم اور دیگر ملزمان عدالت میں پیش ہوئے۔ پی ٹی آئی کے وکلا نے عدالت سے فردِ جرم مؤخر کرنے کی استدعا کی، تاہم عدالت نے اس درخواست کو مسترد کر دیا۔

سماعت کے دوران جج طاہر عباس سپرا نے کہا،ہر جگہ یہ کہا جاتا ہے کہ مقدمات درج ہو گئے ہیں لیکن ٹرائل نہیں ہو رہا، یہ آپ لوگ ہی کہتے ہیں۔ یا تو آپ کہہ دیں کہ مقدمات کا ٹرائل نہ ہو۔

وکلا کی جانب سے اس پر ردعمل دیتے ہوئے سردار مصروف ایڈووکیٹ نے کہا کہ یہ کیس سیاسی نوعیت کا ہے، اور ہم اس حوالے سے بات کر رہے ہیں۔

عدالت نے ملزمان کی بریت کی درخواستیں پہلے ہی خارج کر دی تھیں اور اب ان درخواستوں پر کوئی مزید کارروائی نہیں کی جائے گی۔ عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگر راجا راشد حفیظ مچلکہ جمع نہیں کراتے تو وہ کورٹ روم چھوڑ نہیں پائیں گے۔ عدالت نے راشد حفیظ کو ایک لاکھ روپے کا مچلکہ جمع کرانے کا حکم دیا۔

بعد ازاں عدالت نے کیس کی اگلی سماعت 12 مئی تک ملتوی کر دی اور اس کے لیے استغاثہ کے گواہان کو طلب کر لیا۔

یاد رہے کہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے خلاف تھانہ آئی 9 اسلام آباد میں مقدمہ درج کیا گیا ہے، اور یہ کیس انسداد دہشت گردی عدالت میں زیر سماعت ہے۔

Scroll to Top