وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ اگر بھارت نے کوئی جارحانہ قدم اٹھایا تو پاکستان بھرپور جواب دے گا، اگر مکمل حملہ ہوا تو پھر یقینی طور پر مکمل جنگ ہوگی۔
برطانیہ کے بین الاقوامی نشریاتی ادارے ’سکائی نیوز‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ کشمیر میں حالیہ واقعے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی مکمل جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے، دونوں ممالک جوہری طاقتیں ہیں اس لیے عالمی برادری کو اس صورتحال پر سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے۔
وزیر دفاع نے الزام عائد کیا کہ بھارت نے یہ واقعہ فالس فلیگ آپریشن کے طور پر خود ہی ترتیب دیا ہے تاکہ پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کیا جا سکے، تاہم پاک فوج ہر قسم کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ ہم ہر بھارتی اقدام کا مؤثر اور متوازن جواب دیں گے، اگر حالات جنگ کی طرف جاتے ہیں تو ہم بھی اسی نوعیت کا ردعمل دیں گے، یقیناً دو جوہری طاقتوں کے درمیان تصادم ہمیشہ باعث تشویش ہوتا ہے اور اگر یہ بگڑ گیا تو اس کے نتائج انتہائی خطرناک ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پہلگام واقعے پرامریکا کا ردعمل، بھارت سے انصاف کے تقاضے پورے کرنے کا مطالبہ
وزیر دفاع خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان مسائل کے حل کے لیے ہمیشہ مذاکرات پر یقین رکھتا ہے اور موجودہ بحران کو بھی بات چیت سے سلجھایا جا سکتا ہے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ بطور عالمی طاقت کے رہنما اس معاملے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ جہاں دو جوہری ممالک آمنے سامنے کھڑے ہیں، اگر عالمی قیادت اس کشیدگی کو کم کرنے میں کردار ادا کرے تو یہ سب کے لیے بہتر ہوگا، وزیر دفاع خواجہ آصف نے واضح کیا کہ اگر بھارت نے کوئی اقدام کیا تو پاکستان کے پاس ردعمل دینے کے سوا کوئی آپشن نہیں بچے گا۔





