پاکستانی موقف کی تائید کرنے اور پہلگام حملے کو سازش قرار دینے پر آسام کے اپوزیشن رکن اسمبلی امین الاسلام گرفتار

ویب ڈیسک۔ بھارتی ریاست آسام میں پہلگام حملے کو حکومت کی سازش قرار دینے والے آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کے رکن اسمبلی امین الاسلام کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان کی گرفتاری کا حکم آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے جاری کیا۔

وزیر اعلیٰ کا کہنا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت کسی ایسے شخص کو برداشت نہیں کرے گی جو بالواسطہ یا بلاواسطہ پاکستان کی حمایت کرتا ہو۔

امین الاسلام نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پیغام جاری کیا تھا جس میں انہوں نے نہ صرف رواں ماہ پیش آنے والے پہلگام حملے کو بلکہ 2019 کے پلوامہ واقعے کو بھی بھارتی حکومت کی “منظم سازش” قرار دیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ یہ حملے سیاسی مقاصد کے لیے کیے گئے تاکہ مخصوص بیانیے کو فروغ دیا جا سکے۔ ان کا یہ بیان چند ہی گھنٹوں میں سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا، جس کے بعد آسام پولیس نے ان کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں حراست میں لے لیا۔

وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے اپنے بیان میں کہا کہ جو عناصر ملک کے دشمنوں کی زبان بولیں گے یا پاکستان کے مؤقف کو تقویت دیں گے، ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریاست آسام میں ملک مخالف بیانات کی کوئی گنجائش نہیں۔

امین الاسلام کی گرفتاری پر ملک کی سیاسی فضا میں گرما گرمی بڑھ گئی ہے۔ کئی اپوزیشن رہنماؤں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے اس اقدام کو اظہار رائے کی آزادی پر حملہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومتی پالیسیوں پر تنقید کو ملک دشمنی قرار دینا ایک خطرناک رجحان بن چکا ہے، جسے فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔

امین الاسلام کی جماعت نے بھی ان کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ان کی رائے کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جماعت نے مطالبہ کیا ہے کہ امین الاسلام کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور ان کے خلاف تمام مقدمات ختم کیے جائیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ امین الاسلام کے خلاف تحقیقات جاری ہیں اور ان کے بیان کا ہر پہلو سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر بھارت میں اظہار رائے کی آزادی، سیاسی انتقام اور اقلیتوں کے حقوق پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

Scroll to Top