وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان نے چین سے مزید 10 ارب یوان کی مالی معاونت کی درخواست کی ہے، جس کے تحت موجودہ 30 ارب یوان کی کرنسی سویپ لائن کو بڑھا کر 40 ارب یوان کرنے کی امید ہے۔
وزیر خزانہ نے رائٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنی قرض لینے کی بنیاد کو متنوع بنا رہا ہے اور رواں سال کے آخر تک چین کی ڈومیسٹک بانڈ مارکیٹ میں پانڈا بونڈز جاری کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، پانڈا بونڈز کے اجرا سے پاکستان کے لیے بین الاقوامی مالیاتی ذرائع تک رسائی میں مزید بہتری آئے گی۔
آئی ایم ایف پروگرام پر بات کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا بورڈ مئی کے آغاز میں 1.3 ارب ڈالر کے قرض پروگرام کی منظوری دے دے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ کلائمیٹ فائنانسنگ کے تحت ایک نیا پروگرام بھی شروع کیا ہے، جو معیشت کے استحکام میں معاون ثابت ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی بینک نے ابھرتی ہوئی منڈیوں میں قرضوں کے بحران پر خطرے کی گھنٹی بجا دی
بھارت کے ساتھ تعلقات پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان موجودہ تناؤ کے اقتصادی اثرات مثبت نہیں ہوں گے، دونوں ممالک کے درمیان تجارتی روابط پہلے ہی محدود ہو چکے ہیں اور گزشتہ سال دوطرفہ تجارت محض 1.2 ارب ڈالر تک محدود رہی تھی۔





