اسلام آباد: یمن میں امریکی فوج کی جانب سے کی جانے والی فضائی کارروائی میں ایک حراستی مرکز کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں 68 افراد جاں بحق اور 47 شدید زخمی ہو گئے۔
حوثی میڈیا رپورٹس کے مطابق متاثرہ حراستی مرکز افریقی مہاجرین سے بھرا ہوا تھا، جو یمن کے راستے خلیجی ممالک میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ حملے کے بعد جائے وقوعہ پر تباہی کے مناظر دیکھے گئے، جبکہ امدادی ٹیموں کو متاثرین تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
حوثی حکام نے اس واقعے کو جنگی جرم قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ سے فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ افسوسناک واقعہ یمن کے شمالی حصے میں پیش آیا، جو حوثیوں کے کنٹرول میں ہے۔
تاحال امریکی فوج یا اتحادی افواج کی جانب سے اس حملے کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی۔ زخمیوں کو قریبی ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں متعدد افراد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں بھارت میں پاکستانی صحافیوں کے چینلز بند کرنے پر عطا تارڑ کا شدید ردعمل
عالمی برادری کی جانب سے اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے واقعے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔





