امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے قومی سلامتی کے مشیر مائیک والٹز کو عہدے سے ہٹا دیا اور ان کی جگہ وزیر خارجہ مارکو روبیو کو عبوری مشیر مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ وہ والٹز کو اقوام متحدہ میں اگلے امریکی سفیر کے طور پر نامزد کریں گے، کیونکہ والٹز نے قوم کے مفادات کو ہمیشہ اولین ترجیح دی اور سخت محنت کی۔
دن کے آغاز میں ٹرمپ نے والٹز کو قومی سلامتی کے عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا، اور میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ یمن حملوں کی تفصیلات کے لیک ہونے کے بعد کیا گیا، جس پر والٹز کی تنقید کی گئی تھی۔ مائیک والٹز ایک ریٹائرڈ آرمی گرین بیریٹ اور فلوریڈا کے سابق ریپبلکن قانون ساز ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے حوالے سے بھی خبریں سامنے آئی ہیں کہ وہ ہنری کسینجر کے بعد 1970 کی دہائی میں پہلی بار وزیر خارجہ اور قومی سلامتی کے مشیر کے عہدے کو بیک وقت سنبھالنے والے شخص ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں پاکستان اور بھارت کی کشیدگی کو نہایت قریب سے مانیٹر کر رہے ہیں، امریکہ
ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ایک بیان میں کہا کہ جب انہیں کوئی مسئلہ ہوتا ہے، تو وہ مارکو روبیو کو کال کرتے ہیں اور روبیو ہمیشہ اس مسئلے کو حل کر دیتے ہیں۔
قومی سلامتی کے مشیر کا عہدہ ایک طاقتور عہدہ ہے جس کے لیے سینیٹ کی توثیق کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ٹرمپ کے پہلے دور میں اس عہدے پر چار مختلف افراد کام کر چکے ہیں، جن میں مائیکل فلن، ایچ آر میک ماسٹر، جان بولٹن اور رابرٹ او برائن شامل ہیں۔





