بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر محمد یونس کے قریبی ساتھی نے تجویز دی ہے کہ اگر بھارت نے پاکستان کے خلاف جارحیت کا مظاہرہ کیا تو بنگلہ دیش کو شمال مشرقی بھارت پر حملہ کر دینا چاہیے۔
بنگلہ دیشی فوج کے سابق افسر ریٹائرڈ میجر جنرل اے ایل ایم فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ان کے ملک کو بھارت کی سات شمال مشرقی ریاستوں پر قبضہ کر لینا چاہیے۔
سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میںفضل رحمان جنہیں محمد یونس کے قریب سمجھا جاتا ہے نے مزید لکھا ہے کہ بنگلہ دیش کو اس اقدام کی تیاری کے لیے چین کے ساتھ مشترکہ فوجی نظام پر بات چیت شروع کرنی چاہیے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اگست 2024 میں سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی برطرفی کے بعد نئی دہلی اور ڈھاکہ کے تعلقات میں شدید تناؤ پایا جا رہا ہے۔
میجر جنرل (ریٹائرڈ) اے ایل ایم فضل الرحمان نے اس وقت کے بنگلہ دیش رائفلز (بی ڈی آر) کے ڈائریکٹر جنرل کے طور پر خدمات انجام دی تھیں اور اس وقت وہ 2009 کی بی ڈی آر بغاوت کی تحقیقات کرنے والے نیشنل انڈیپنڈنٹ کمیشن آف انکوائری کے چیئرمین ہیں۔
بنگلہ دیشی حکومت نے جمعہ کے روز فضل الرحمان کے ذاتی فیس بک اکاؤنٹ پر دیے گئے بیان سے خود کو الگ کر لیا ہے اور کہا ہے کہ یہ ریمارکس انہوں نے صرف ذاتی حیثیت میں دیے ہیں۔
وزارت خارجہ کے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ یہ تبصرے بنگلہ دیشی حکومت کی پالیسی یا مؤقف کی عکاسی نہیں کرتے، لہٰذا حکومت نہ تو ان خیالات کی توثیق کرتی ہے اور نہ ہی کسی بھی صورت میں ان کی حمایت کرتی ہے۔حکومت نے تمام متعلقہ افراد سے اپیل کی ہے کہ وہ میجر جنرل (ریٹائرڈ) اے ایل ایم فضل الرحمان کے ذاتی خیالات کو ریاستی مؤقف سے نہ جوڑیں۔





