سلمان اکرم نے کہا کہ ’’فارم 47 عوامی حمایت کا مظہر نہیں، اصل عوامی مینڈیٹ چوری کیا گیا ، ہم آئین اور قانون کی حکمرانی کی بات کرتے ہیں، عمران خان کسی ڈیل کا حصہ نہیں بن رہے
تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی رہنما اور معروف قانون دان سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی اپنی افواج کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے اور موجودہ ملکی حالات میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے بجائے آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) بلانا زیادہ مؤثر اقدام ہوگا۔
لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات سے متعلق انہیں کوئی علم نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سینیٹر اعجاز چوہدری کی ضمانت قانون کے مطابق ہوئی ہے اور بانی پی ٹی آئی کے خلاف قائم مقدمات کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ’’فارم 47 عوامی حمایت کا مظہر نہیں، اصل عوامی مینڈیٹ چوری کیا گیا ہے۔ ہم آئین اور قانون کی حکمرانی کی بات کرتے ہیں، بانی پی ٹی آئی کسی ڈیل کا حصہ نہیں بن رہے۔
پی ٹی آئی رہنما نے عدالتوں کی موجودہ کارکردگی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ’’ 26ویں آئینی ترمیم کی صورت میں عدلیہ پر حملہ کیا گیا ہے، عدالتیں اپنی آئینی خودمختاری کے مطابق کام نہیں کر رہیں۔
انہوں نے قید تنہائی سے متعلق وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’’بانی پی ٹی آئی کو شوگر یا بلڈ پریشر کی کوئی شکایت نہیں، لیکن ان کی ملاقات کسی سے نہیں کرائی جا رہی، جسے ہم قید تنہائی سمجھتے ہیں۔
سلمان اکرم راجہ نے آخر میں اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ تحریک انصاف جمہوری اور آئینی دائرے میں رہتے ہوئے اپنے مؤقف پر قائم ہے اور قومی اداروں کے ساتھ کھڑی ہے۔





