بلدیاتی نمائندوں کا کہنا ہے کہ تاحال نہ فنڈز جاری کیے گئے اور نہ ہی اختیارات منتقل ہوئے، ان کے مطابق حکومت کی یقین دہانیوں کے باوجود عملی اقدامات کا فقدان ہے۔
تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخوا میں منتخب بلدیاتی نمائندوں نے صوبائی حکومت پر وعدہ خلافی کا الزام عائد کرتے ہوئے فنڈز اور اختیارات کی عدم فراہمی پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ نمائندوں نے حکومت کو دو ہفتے کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر مطالبات منظور نہ کیے گئے تو بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔
بلدیاتی نمائندوں کا کہنا ہے کہ حکومت کے ساتھ ستمبر 2024 میں ہونے والے مذاکرات کے دوران ان کے مطالبات تسلیم کیے گئے تھے، تاہم تاحال نہ فنڈز جاری کیے گئے اور نہ ہی اختیارات منتقل ہوئے۔ ان کے مطابق حکومت کی یقین دہانیوں کے باوجود عملی اقدامات کا فقدان ہے۔
نمائندوں نے حکومت کو چارٹر آف ڈیمانڈ پر فوری عملدرآمد کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جب صوبائی حکومت وفاق سے اپنا حق احتجاج کے ذریعے لیتی ہے تو مقامی حکومتوں کو کیوں نظرانداز کیا جا رہا ہے؟ اگر دو ہفتوں میں پیش رفت نہ ہوئی تو صوبہ بھر میں احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی۔





